خطبات محمود (جلد 14) — Page 202
خطبات محمود ۲۰۲ سال ۱۹۳۳ء میں نہیں جانتا ایسی روحانی مُردنی کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو روحانی ترقی کا خیال بھی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔میں اس امر کو مان لیتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے سو ڈیڑھ سو ایسے لوگ ہوں گے جو سمجھتے ہوں کہ وہ قرآن مجید کے معارف کی سمجھ اس حد تک بلکہ اس سے زیادہ رکھتے ہیں جو درس دینے والے کو حاصل ہے۔مگر ایسے لوگوں کو تو میں نے اپنے درس میں بھی شامل ہوتے نہیں دیکھا۔حالانکہ میں کبر اور خود پسندی سے بچتے ہوئے اور ہر قسم کے دعووں سے اجتناب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ قرآن مجید خدا تعالیٰ نے مجھے خود سمجھایا ہے۔اس لئے میں ان کے دعووں کو ذرہ بھر بھی وقعت دینے کیلئے تیار نہیں۔کہتے ہیں۔ہر موسیٰ کیلئے خضر ہوتا ہے۔اور ممکن ہے کوئی ایسا خضر بھی موجود ہو۔مگر میں یہ تو تسلیم نہیں کر سکتا کہ قادیان کی اینٹ اینٹ کے نیچے خضر بیٹھا ہوا ہے۔غرض ایسے لوگ تو وہ ہیں جو میرے درس میں بھی شامل نہیں ہوتے۔اور اپنے آپ کو چوہدری اور نمبردار سمجھتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ درس سننے سے مستغنی ہیں۔ایسے لوگوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے اگر ہم معذوروں کو بھی نکال دیں تو ۸۰ فیصدی یعنی ۱۷ ۱۸ سو کے قریب ایسے لوگ ہونے چاہئیں جنہیں درس میں ضرور شامل ہونا چاہیئے۔اور اگر اس قدر شامل نہ ہوں بلکہ صرف تمہیں چالیس شامل ہو جائیں تو گویا صرف دو یا سوا دو فیصدی آدمی درس میں حصہ لیتے ہیں۔اور باقی تمام ایسے ہیں جو اپنے آپ کو چوہدری یا نمبردار سمجھتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے۔حضرت خلیفہ اول بیماری کی حالت میں بیٹھے بیٹھے جب لوگوں کی کثرت کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتے تو فرماتے۔دوست اب تشریف لے جائیں۔اس پر پچاس فیصدی کے قریب لوگ تو چلے جاتے اور باقی بیٹھے رہتے۔پانچ دس منٹ انتظار کرنے کے بعد جب آپ زیادہ تکلیف محسوس کرتے تو فرماتے۔آپ سب لوگ چلے جائیں مجھے تکلیف ہے۔اس پر پھر کچھ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔مجھے یاد ہے ہمیشہ تیسری بار ایسے موقع پر حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے اب نمبردار بھی چلے جائیں۔کیونکہ نمبردار وہی ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم مخاطب نہیں۔تو آپ ہمیشہ یہ فقرہ کہا کرتے تھے۔مگر جو حالات مجھے معلوم ہوئے ہیں، ان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں ایسے نمبردار بہت زیادہ ہیں۔پہلے تو میرا دل چاہا کہ میں ایک دن درس میں جاکر ان لوگوں کے نام لکھوالوں جو درس میں شامل ہوتے ہیں۔پھر خواہ بیماری ہو یا تکلیف میں ایک دو دن درس دوں۔اور سب لوگوں