خطبات محمود (جلد 14) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۳۳ء سے سلوک اس کی اپنی ہمت کے مطابق ہوتا ہے۔کبھی اپنی کوشش سے یہ بچ جاتی ہے، کبھی ہلاک ہو جاتی ہے۔ہماری جماعت سے بھی خدا تعالیٰ نے زندگی کا وعدہ کیا ہے۔اس لئے ہمیں بھی پہلے موت کا پیالہ پینا ہوگا۔کیونکہ آدم سے لے کر اب تک خدا تعالی کی یہی سنت رہی ہے کہ زندگی حاصل کرنے سے پہلے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ لوگ جاہل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے زندگی کا پیالہ دینے کا وعدہ ہے، ہمیں زندگی کا پیالہ ہی ملنا چاہیے ورنہ خداتعالی کا وعدہ جھوٹا ہے۔اب خواہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا وطیرہ اختیار کرد یا محمد الان سیتی کی قوم کا بہر حال تمہیں موت کا پیالہ پینا ہو گا۔اگر تم اپنے ہاتھ سے نہ سے وہ پیالہ پی لو تو تم ہمیشہ کیلئے زندہ رہو گے۔لیکن اگر خدا کے ہاتھ سے پیو تو کم سے کم چالیس سال تک کی موت تمہیں نصیب ہوگی۔نادان ہیں ہم میں سے وہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں زندگی کے پیالہ کا وعدہ ہے۔آسمانی اصطلاح میں زندگی کے پیالہ سے مراد موت کا پیالہ لے کر زندگی کا نصیب ہونا ہوتا ہے۔اب یہ بات تمہارے اختیار میں ہے کہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح موت کا پیالہ پینے سے انکار کرد و یا محمد ﷺ کے صحابہ کی طرح موت کا پیالہ قبول کرلو اور ہمیشہ کی زندگی لے لو۔یہ بھی یاد رکھو کہ یہ کافی نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے متعلق فیصلہ کرلے کہ وہ کس قوم کی طرح ہوگا۔خدا کا فیصلہ کثرت پر ہو گا۔تم میں سے اکثر جس قوم کی طرح ہوں گے ویسا ہی تم سے سلوک کیا جائے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں بھی اور نہیں تو کم از کم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام ایسے تھے جو محمد ﷺ کی قوم کی طرح تھے۔مگر ان سے بھی ویسا ہی سلوک کیا گیا جیسا دوسروں کے ساتھ۔ان کو بھی حکومت نہ دی گئی اور وہ بھی وہیں فوت ہو گئے۔ان کے بعد حضرت یوشع کو حکومت ملی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دعوئی کے وقت ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے یا ابھی کمسن تھے۔اور ان میں نہیں تھے جنہوں نے موت کا پیالہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔پس ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جماعت میں سے کثرت کس طرف ہے؟ اگر تم میں رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں کی طرح کے لوگ زیادہ ہیں، تو تم میں سے کمزور بھی بچ جائیں گے۔جیسے رسول کریم ﷺ کے ساتھ کمزور بھی فتح یاب ہوئے تھے۔اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح کے لوگوں کی کثرت ہے تو پھر ان کو بھی جو محمد ﷺ کی قوم کی طرح ہیں، موت قبول کرنا ہوگی۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے قربانی سے انکار کردیا سے۔