خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 195

خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۳ء تھا حالانکہ ہم چندہ دیتے ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے تو آخری موت سے انکار کیا تھا ورنہ انہوں نے اپنے مکان چھوڑ دیئے۔اپنے بھاری اسباب چھوڑ دیئے۔اپنا وطن چھوڑ دیا۔اپنے دوست چھوڑ دیئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آواز پر کہا گویا جائداد کا نصف حصہ سے زیادہ قربان کردیا۔کیونکہ غیر منقولہ جائداد منقولہ کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔پس یہ خیال کرنا غلطی ہے کہ ان لوگوں نے قربانی نہیں کی وہ تو ہمارے بہت سے چندہ دینے والوں سے بڑھ کر تھے۔انہوں نے تو صرف آخری پیالہ جو صاف موت کا پیالہ تھا پینے سے انکار کیا ورنہ چندہ تو انہوں نے خوب دیا۔کیونکہ اپنا وطن، اپنے مکان ، اپنی اور اپنے بھاری اسباب سب خدا کیلئے چھوڑ دیئے۔پس جب خداتعالی کہتا ہے کہ انہوں نے موت قبول نہیں کی تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالی کے نزدیک موت قبول کرنا ان قربانیوں سے بڑھ کر کوئی چیز ہے۔پس ہمیں بھی وہم دور کر کے موت کیلئے تیار ہو جانا چاہیے ورنہ زبانی دعوے پاگلوں کی بڑسے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔زمینیں الفضل ۳ - ستمبر ۱۹۳۳ء) له البقرة: ۲۴۴ ته المائدة: ۲۵ سے بخاری کتاب مناقب الانصار باب مناقب الانصار البقرة: ۲۴۴ هم البقرة: ١٣٠ ته ال عمران: ۱۵۵ بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى اذ تستغيثون ربكم الخ شه عمدة القاري في شرح البخاری جلد ۱۷ صفحه ۸۴۸۰ مطبوعه مكتبة الرشيدية الطبعة الاولی کوئٹہ پاکستان البقرة : ۲۴۴