خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 14

خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۳۳ء وہ پنجابی میں کہتے ہیں عید دے بعد تنہا پھو کہنا اے" یعنی عید کے گزر جانے کے بعد پاجامے کی کیا ضرورت ہے اور وہ کس کام آسکتا ہے۔مگر یہ باتیں اب بھی کام آسکتی ہیں اور اس طرح کے جنہوں نے بغیر کسی عذر کے روزے نہیں رکھے وہ عید کے بعد پھر رکھیں۔شریعت نے اس کی بھی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی غلطی کر بیٹھا ہے تو معلوم ہونے پر اس کی اصلاح کرلے۔کیونکہ عقل کی معذوری بھی تو دراصل معذوری ہی ہے اور گو آج کا دن تھوڑا ہی باقی ہے مگر رمضان کی کچھ گھڑیاں ابھی باقی ہیں۔ان میں خوب دعائیں کرو اور سورج غروب ہونے سے ایک منٹ پہلے بھی اگر کوئی اس بات کو سمجھ لے تو وہ محروم نہیں رہ سکتا اور گھنٹوں میں تو ایسی زبردست دعائیں ہو سکتی ہیں جو زمین و آسمان کو ہلا سکتی ہیں۔اور گو بظاہر یہ خطبہ بے فائدہ نظر آتا ہے مگر حقیقتاً ایسا نہیں۔ابھی کئی گھڑیاں اور کئی گھنٹے باقی ہیں۔پھر کئی منٹ اور کئی سیکنڈ ہوں گے اور ایک سیکنڈ بلکہ اس کے بھی قلیل حصہ میں خداتعالی سے تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔اُس کا جو سلوک اپنے بندے سے ہوتا ہے، اس کیلئے نہ کسی لمبے عرصہ کی حد بندی ہوتی ہے اور نہ قلیل عرصہ کی۔یہ اوقات تو ہمارے لئے ہیں۔اس کے متعلق یہ خیال بھی کرنا کہ اس پر وقت کا کوئی اثر ہوتا ہے، اس کی تمام صفات کو معطل قرار دے لینے کے مترادف ہے۔پس یہ گھڑیاں ضائع مت کرو۔یہ بہت بڑی نعمت ہے۔جن دنوں میں قرآن مل سکتا ہے ان میں سب کچھ مل سکتا ہے۔جنت بھی مل سکتی ہے، بادشاہتیں اور حکومتیں بھی مل سکتی ہیں۔قرآن جنت اور بادشاہوں سے بہت بڑا ہے کیونکہ وہ خدا تعالی کا قرب ہے۔اور جنت تو اللہ تعالیٰ کے قرب کا نتیجہ ہے۔اور جن ایام میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکے، ان میں اور کیا چیز ہے جو نہ مل سکتی ہو۔الفضل ۲ - فروری ۱۹۳۳ء) له بخارى كتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذا شتم البقرة: ١٨٦ کے خوید: سرسبز کھیتی