خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 13

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی تھی۔اس عمر میں تو صرف شوق ہوتا ہے جیسے بچے جب فٹ بال کھیلتے ہیں تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تم نے کتنے گول کیے۔اس طرح جب رمضان کے دنوں میں اکٹھے بیٹھتے ہیں تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں تم نے کتنے روزے رکھے ، تم نے کتنے رکھے؟ اور اس شوق میں وہ زیادہ رکھنا چاہتے ہیں مگر یہ ماں باپ کا کام ہے کہ انہیں روکیں۔پھر ایک عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس میں چاہیے کہ بچوں کو جرات دلائیں کہ وہ کچھ کچھ روزے رکھیں۔اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھیں کہ زیادہ نہ رکھیں۔اور دیکھنے والوں کو بھی اس پر اعتراض نہ کرنا چاہیے کہ سارے روزے کیوں نہیں رکھتا۔کیونکہ اگر بچہ اس عمر میں سارے رکھے گا تو آئندہ نہیں رکھ سکے گا۔عورتوں میں روزہ کی بلوغت اس سے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔اور وہ پندرہ سال کی عمر ہے کیونکہ لڑکی پندرہ سال کی عمر میں اتنی طاقت حاصل کرلیتی ہے جتنی لڑکا اٹھارہ سال کی عمر میں۔پھر بعض بچے طاقتور ہوتے ہیں۔اس لئے ان کی بلوغت پہلے بھی شروع ہو سکتی ہے کیونکہ روزہ کی بلوغت انسانی قومی پر منحصر ہوتی ہے۔اسی طرح بعض بچے کمزور ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اپنے بچوں کو مجھ سے ملاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کی عمر پندرہ سال ہے مگر وہ دیکھنے میں سات آٹھ سال کا معلوم ہوتا ہے۔ایسے بچے میں سمجھتا ہوں روزہ کیلئے شاید اکیس سال کی عمر میں بالغ ہوں۔روزہ کا اثر انسان کے جسم پر پڑتا ہے، شریعت نے مختلف بلوغتیں رکھی ہیں۔مال کی حفاظت کیلئے بلوغت چوبیس سال کی ہے۔نماز کیلئے دس سال ہے کیونکہ حکم ہے اگر اس عمر میں نہ پڑھے تو مار کر پڑھاؤ۔حدیثوں میں الگ الگ بلوغتیں مقرر ہیں۔اور کسی امر میں شریعت نے تنگ نہیں کیا بلکہ رعایت رکھی ہے۔اور اگر کوئی اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے تو اپنے دین کو برباد کرتا ہے۔ایک قوی آدمی پندرہ سال کی عمر میں اٹھارہ سال کے برابر ہو سکتا ہے۔لیکن اگر وہ میرے ان الفاظ کو ہی پکڑلے تو نہ وہ مجھے ظلم کرے گا اور نہ خدا پر بلکہ اپنی جان پر ظلم کرے گا۔اسی طرح اگر کوئی چھوٹی عمر کا پورے روزے نہ رکھے اور لوگ اس پر طعن کریں تو وہ اپنی جان پر ظلم کریں گے نہ اس پر نہ مجھ پر اور نہ خدا تعالی پر۔مگر ان باتوں میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے جہاں شریعت روکتی ہے وہاں رکنا چاہیے۔اور جہاں حکم دیتی ہے وہاں عمل کرنا چاہیئے۔اب رمضان تو گذرچکا ہے اور کوئی کہہ سکتا ہے کہ اب ان نصائح کا کیا فائدہ ہے۔ہی