خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 127

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء لاکھوں انسانوں کا تعلق ہے اور انہوں نے اسے محسوس کیا ہے۔میرے پاس تو بعض ایسے خطوط آئے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کئی دوستوں نے ایسا محسوس کیا ہے کہ انہیں اپنے عزیزوں کے متعلق بھی ایسا صدمہ نہ ہوتا۔آج ہی ایک خط آیا ہے۔ایک دوست لکھتے ہیں کہ میں اخبار پڑھ رہا تھا اور اس قدر رنج ہوا کہ ساری خبر بھی نہ پڑھ سکا اور الٹا لیٹ کر چیچنیں مارنے لگ گیا۔شور سن کر میری بیوی آئی اور وجہ دریافت کرنے لگی۔میں رقت کے سبب بات بھی نہ کر سکتا تھا۔آخر اُس نے اخبار اٹھا کر پڑھا تو اس پر بھی وہی کیفیت طاری ہو گئی۔حتی کہ گاؤں کے غیر احمدی، ہندو، سکھ سب اکٹھے ہو گئے کہ کیا تمہارے ہاں کوئی ماتم ہو گیا ہے۔تو ایک ایسی خبر جس کا اثر لاکھوں انسانوں پر پڑتا ہو اس کے متعلق بعض احتیاطوں کی ضرورت ہے۔اور میں سمجھتا ہوں چاہیے تھا کہ جس وقت رات کو سارہ بیگم بیمار ہوئی تھیں، اُسی وقت مجھے تار دے دیا جاتا۔اور میرا تجربہ ہے جو کبھی فیل نہیں ہوا کہ جب بھی مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی توفیق مل گئی ہے، وہ بات یا تو ٹل گئی ہے یا ملتوی ہو گئی ہے۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا یہ میرا تجربہ ہے حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب لاہور میں بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا محمود کو جگاؤ میں جاگا تو کوٹھے پر دعا کیلئے گیا۔مگر دل میں دعا کیلئے جوش نہ پیدا ہوا۔الفاظ تو منہ سے نکلتے تھے مگر دل میں جوش نہیں پیدا ہوتا تھا۔آخر ایک گھنٹہ کی کوشش کے بعد اگر جوش پیدا ہوا تو اِس امر پر کہ خدایا کیا میرے دل میں تجھ پر اور تیرے رسولوں پر ایمان نہیں رہا کہ تیرا رسول اور ہمارا امام اس حالت میں ہے اور میرے دل میں دعا کیلئے جوش پیدا نہیں ہوتا۔اور اس طرح میں ایک گھنٹہ روتا رہا مگر صحت کی دعا کی طرف توجہ اور وہ حالت جس میں انسان سمجھتا ہے کہ میں نے خدا سے بات منوالی ہے، نہ پیدا ہو سکی۔دوسری ضروری چیز یہ تھی کہ مقامی امیر کو فوراً اطلاع دی جاتی۔بیسیوں لوگوں نے مجھ سے شکوہ کیا ہے کہ اگر پتہ لگتا تو کم سے کم دعا ہی کرتے۔اور انہیں افسوس ہے کہ دعا بھی نہ کر سکے۔اگر مقامی امیر کو اطلاع ہو جاتی تو سینکڑوں لوگ دعا کرتے اور ممکن ہے ان سے اتنا وقت مل جاتا کہ میں واپس آجاتا۔پھر جو تار مجھے دیا گیا، اس کے الفاظ اتنے کمزور تھے کہ سوائے معمولی بیماری کے جو ہر حاملہ کو ہو سکتی ہے، کوئی زیادہ بات ظاہر نہ ہوتی تھی۔پھر آپریشن کرنے یا اس کے ختم ہونے کی مجھے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔مگر میں پھر کہوں گا کہ تقدیر ایسی ہی تھی۔کیونکہ جب مجھے اطلاع ملی تو میں نے اسباب باندھنے کیلئے کہا۔اُس وقت