خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 126

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہوئے میں والدہ صاحبہ حضرت اُم المؤمنین سے یہی باتیں کر رہا تھا۔انہوں بھی نے بتایا کہ اُس وقت امتہ الحئی مرحومہ کی حالت بہت خطرناک تھی لیکن پھر سنبھل گئی۔غرضیکہ میں پہنچ گیا اور اس کے دس بارہ روز بعد ان کی وفات ہوئی۔کیونکہ یہی مقدر تھا جیسا کہ ولایت جانے سے پہلے ہی بتایا گیا تھا۔مگر دعاؤں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے ملنے کا موقع مل گیا۔ان کا علاج تین ڈاکٹر کر رہے تھے۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جو بہت مشہور ڈاکٹر ہیں۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب جیسے عمر رسیدہ اور تجربہ کار ڈاکٹر جو میڈیکل میں پروفیسر بھی رہ چکے ہیں اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب یہ تینوں معالج تھے۔جس روز عصر کے قریب ان کا انتقال ہوا اسی دن نو بجے کے قریب میں نے ان تینوں کو جمع کیا اور کہا کہ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کہنے سے شرماتا ہے۔لیکن اگر اسے اپنی موت کا یقین ہو جائے تو کہہ دیتا ہے۔اسی طرح کئی باتیں جو بظاہر پوچھنا مناسب نہیں ہوتیں وہ پوچھ بھی لی جاسکتی ہیں۔یا یہ دریافت کیا ہے کہ اگر کوئی خواہش ہو تو بتا دو۔پس اگر حالت ایسی ہو تو بتادیں تا انہیں بھی بتادیا جائے۔اور ان کے دل میں اگر کوئی بات ہو تو کہہ دیں۔مگر متیوں نے جن میں سے دو بڑے لمبے تجربہ والے اور تیسرے بھی اچھا تجربہ رکھنے والے تھے، متفقہ طور پر کہا کہ کوئی خطرناک بات نہیں۔یہ ہسٹیریا کے دورے ہیں۔لیکن اس بیان کے چار گھنٹے بعد وہ فوت ہو گئیں۔پس ڈاکٹری ایک ظنی علم ہے اور اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس حد تک صحیح ہوگا اور کس حد تک غلط بعض اوقات علاج ایک رحمت کے فرشتے کی صورت میں نازل ہوتا ہے۔اور بعض اوقات کچھ بھی اثر نہیں رکھتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جرمنی کا ایک بادشاہ تھا اسے خناق ہو گیا۔اور برابر آٹھ گھنٹے یورپ کے چوٹی کے ڈاکٹروں اور ملک الموت میں گشتی ہوتی رہی، آخر ملک الموت غالب آگیا۔ڈاکٹروں کا کام زندہ کرنا نہیں، صرف کوشش ہے اور اگر کوئی دیانت داری سے کوشش کرتا ہے تو اس پر کوئی شکوہ نہیں۔اس لئے میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ شکوہ نہیں بلکہ اصلاح ہے اور آئندہ کی احتیاط کیلئے ہے۔ایسے موقع پر میں شکوہ کرنا فضول سمجھتا ہوں۔اس لئے کہ جو نقصان ہو چکا اس کے متعلق شکوہ فضول ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ غلطی ہوئی۔کیونکہ ممکن ہے میں خود بھی ہوتا تو یہ غلطی ہو جاتی۔مگر میں جانتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان یا خلیفہ وقت کے نقصان کو ساری جماعت اپنا نقصان سمجھتی ہے۔اور اس طرح چونکہ اس سے