خطبات محمود (جلد 14) — Page 100
خطبات محمود۔سال ۶۱۹۳۳ باوجود اس کے کہ دولت انسان کو اعمال میں ست کر دیتی ہے اگر وہ ست نہیں ہوتے، بلکہ تقویٰ اور اخلاص میں بڑھ رہے ہیں تو میں انہیں نیکی سے کس طرح محروم کر سکتا ہوں۔اسی طرح باوجود اس کے کہ متواتر صحبت انسان کو ست کر دیتی ہے اگر کوئی شخص اپنے اخلاص میں ترقی ہی کرتا چلا جاتا ہے تو کون ایسے شخص کو محروم کر سکتا ہے۔پس میرا یہ منشاء نہیں کہ قادیان کے وہ مخلصین جو اپنے اوقات اور کاموں کا حرج کر کے اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالی نے برکات کے وعدے کئے ہیں اور پھر اپنے امام کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، انہیں محروم کر دیا جائے۔بلکہ میرا منشاء صرف یہ ہے کہ باہر سے آنے والوں کے حق کو نظر انداز نہ کیا جائے۔اور اگر کبھی قادیان کے مخلصین باری باری اپنا حق بھی چھوڑ کر باہر کے لوگوں کو آگے بیٹھنے کا موقع دے دیا کریں تو میرے نزدیک یہ ان کیلئے ثواب کا موجب ہوگا۔پھر ایک اور چیز بھی ہے جس سے یہ موقع نکالا جاسکتا ہے۔بچوں کے متعلق رسول کریم ﷺ کا یہ حکم ہے کہ وہ پیچھے رہیں ہے۔اس لحاظ سے سکولوں کے طالب علم جو چھوٹی عمر کے ہوں۔اگر بعض دفعہ باہر سے آنے والے دوستوں کیلئے ان کو پیچھے بٹھا کر موقع نکالا جائے تو یہ بھی ایک طریق ہے جس سے فائدہ اُٹھایا، جاسکتا ہے۔مگر بچوں کے پیچھے بٹھانے کا بھی میں یہ مطلب نہیں سمجھتا کہ ان کے اندر اخلاص کا جو جذبہ پیدا ہو رہا ہے اسے کچل دیا جائے۔پچھلے دنوں یہ طریق نکالا گیا تھا کہ میرے آنے پر چونکہ ہجوم زیادہ ہو جاتا ہے، اس لئے قطار باندھ کر مصافحہ کیا جائے اور کسی کو آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔میں نے مستقل طور پر اسے کبھی پسند نہیں کیا کیونکہ جب جذبات کو دبادیا جائے تو آہستہ آہستہ مُردنی پیدا ہو جاتی ہے۔بچوں میں بھی اگر خلوص کے جذبات پیدا ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم انہیں دبا دیں۔مگر یہ ایک ذریعہ ہے جس سے ہم دوسروں کیلئے موقع پیدا کرسکتے ہیں۔بچے اور رنگ میں بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور بوجہ قادیان میں مستقل رہنے کے ان کیلئے اور مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔پس اگر باہر سے آنے والے لوگوں کیلئے رسول کریم ﷺ کے ایک ارشاد کے ماتحت بچوں کو پیچھے رکھا جائے۔جبکہ اور موقعوں پر بھی وہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں تو اس سے ان کے جذبات کو ٹھیس لگنے کا احتمال نہیں ہو سکتا۔مو پھر ایک اور ہدایت اس موقع کے متعلق میں یہ دینا چاہتا ہوں کہ اسلام نے اجتماع کے وقعوں پر حفظان صحت کا خصوصیت سے خیال رکھا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری