خطبات محمود (جلد 14) — Page 60
خطبات محمود ۶۰ سال ۱۹۳۳ء ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کئے جائیں گے اور ان کا پچھلا حال اُن کے پہلے سے بد تر ہو گا" ھے - لیکن اگر ہم یہ امید کریں کہ ہمارے راستہ میں ابتلاء آئیں اور گورنمنٹ انہیں ہٹاتی جائے یا ابتلاء آئیں اور پبلک انہیں دور کرتی چلی جائے تو دراصل وہ چیز جس کو خدا تعالیٰ نے ایمان کے اظہار کیلئے پیدا کیا ہے ہم اسے مٹاتے اور اپنے ایمانوں کو مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں مخالفوں کی طرف سے جو شور برپا ہے اور جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ آخری شور ہے اس شور کو بڑھنے دو بڑھنے دو اور بڑھنے دو یہاں تک کہ وہ ایک طوفان کی صورت اختیار کرلے تا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ پھر بعد میں کہہ دیں کہ ہم نے ابھی احمدیت کو مٹانے میں پورا زور صرف نہیں کیا۔ہم تو خدا تعالی کی جماعت ہیں۔مجھے ایک انگریز مبصر کی وہ بات بہت پسند آتی ہے جو اس نے ایک موقع پر جبکہ جنگی قرضوں کا مسئلہ زیر بحث تھا، کہی تھی۔اُس وقت بعض انگریزوں کی تجویز تھی کہ قرضہ کو اس طرح تقسیم کردیا جائے کہ اس وقت سے چالیس پچاس سال کے بعد اس کی ادائیگی کا موقع آئے۔اُس وقت اُس انگریز مبصر نے کہا یہ بڑی بیوقوفی ہوگی کہ ہم اپنے بوجھ اپنی نسلوں پر ڈال دیں۔اگر اس بوجھ کو دُور کرنا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے دور کردیں۔اسی طرح میں کہتا ہوں اس وقت اگر ہم اس غلطی کا ارتکاب کریں کہ گورنمنٹ سے کہیں کہ وہ اس مخالفت کو روکے یا پبلک سے اپیل کریں کہ وہ اس شور کو بند کرائے تو اس غلطی کا نتیجہ نکلے گا کہ ہماری آئندہ نسلوں کے سامنے مخالفوں سے کہا جائے گا کہ احمدیت کیوں نہ پھیلتی، اس میں خدا کی تائید کا دخل نہیں، احمدی ایک منظم گورنمنٹ کے ماتحت رہتے تھے اور اگر کوئی ظلم کرتا تو گورنمنٹ اپنے زور سے اسے روک دیتی تھی۔پس ان پر کوئی ظلم کر ہی نہیں سکتا تھا، اسی وجہ سے وہ پھیل گئے۔اور یہ وہ سوال ہوگا جس کا جواب دینا ہماری نسلوں کیلئے نہایت ہی مشکل ہو جائے گا۔پس مشکلات کا دلیری سے مقابلہ کرو نہ تم گورنمنٹ سے درخواست کرو کہ وہ تمہاری مدد کرے اور نہ تم پبلک سے اپیل کرو کہ وہ اس فتنہ کو روکے۔تمہاری اپیل صرف ایک ہی ذات کے سامنے ہونی چاہیے اور وہ تمہارا خدا ہے۔اگر یہ سچ ہے کہ ہم زندہ خدا کی جماعت ہیں اور یقینا سچ ہے۔اگر یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس نے اپنی طرف سے