خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 59

خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۳ء چاہتا تھا کہ مجھے اپنے دین کی اشاعت کیلئے کسی انسانی مدد کی ضرورت نہیں۔اور چونکہ رسول کریم ال و افضل الانبیاء اور سید الرسل ہیں اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوتے جو باقی انبیاء کے حالات زمانہ سے ممتاز ہوتے۔لوگ کہتے ہیں کہ باقی انبیاء کو بھی ابتلاؤں سے گزرنا پڑا۔یہ ٹھیک ہے مگر ان کے زمانہ کے ابتلاء اس حد نہیں پہنچے جس حد تک رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ابتلاء تھے۔تک میرا منشاء اس سے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ وہ خالص اپنی نصرت اور تائید سے اپنا سلسلہ دنیا میں پھیلائے اور یہ کہ انسانی کوششوں کا اس میں کوئی دخل نہ ہو تو اس وقت ہمارا یہ کہنا کہ موجودہ مشکلات کے موقع پر کوئی حکومت یا انجمن ہماری مدد کرے اللہ تعالیٰ کی اس قدیم سنت کے خلاف ہو گا۔خدا تعالیٰ نے بیٹک ایک منظم گورنمنٹ سے ہمارا واسطہ رکھا ہے اس لئے کہ تلوار ہمارے پاس نہیں مگر حکومت سے امداد طلب کرنا اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بدظنی ہے اگر واقعی یہ سلسلہ خداتعالی کی طرف سے ہے اور اگر واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے تو نہ لوگوں کے آرام دینے سے ہمیں سہولت حاصل ہو سکتی ہے اور نہ گورنمنٹ کا ساتھ دینے سے ہماری مشکلات میں کمی واقعہ ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اس کے انبیاء کی جماعتیں تلواروں کے سایہ تلے پلا کرتی ہیں۔ان کیلئے پھولوں کی سیج نہیں بچھائی جاتی بلکہ کانٹوں کے بستر بچھائے جاتے ہیں۔وہ دن اور رات ابتلاء دیکھتے ہیں۔صبح اور شام مصائب اپنے سروں پر منڈلاتے دیکھتے ہیں مگر وہ ڈرتے نہیں۔ان کے ایمان کمزور نہیں ہوتے بلکہ وہ خوش ہوتے اور سمجھتے ہیں کہ ترقی اور سلسلہ کی اشاعت کے سامان ہو رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے۔"اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا۔تو مجھ سے الگ ہو جائے۔مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پر خار بادیہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سب وشتم سے نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دم مارتے