خطبات محمود (جلد 14) — Page 50
خطبات محمود سال ۱۹۳۲۳ء وہ اب بھی خدا کو نہیں مل سکتا تو معلوم ہوا کہ وہ اپاہچ ہے اور جانتے ہو ایک ماں اپنے اپانی بچے سے کیا سلوک کرتی ہے۔وہ اپنے دو سال کے تندرست بچے کو تو اُنگلی پکڑا کر ساتھ چلائے لیکن آٹھ دس سالہ پانچ بچے کو گود میں اٹھالے گی۔اسی طرح جب دوسرے لوگ چل کر اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچیں گے۔اللہ تعالی کی محبت اس اپانچ کو گود میں اٹھا کر لے جائے گی۔پس یہ مت سمجھو کہ تبلیغ کر کے تم خدا یا رسول پر کوئی احسان کرتے ہو بلکہ خود اپنے آپ پر احسان کرتے ہو۔کیونکہ ایسا کر کے تم خدا کی رسیوں سے کھنچے ہوئے اس کے پاس پہنچ جاؤ گے۔پس اس معاملہ میں تمہارا احسان دوسروں پر نہیں بلکہ اپنی جان پر ہی ہو گا۔الفضل ۱۶ - مارچ ۱۹۳۳ء) لہ تذکرہ صفحہ ۷۹- ایڈیشن چهارم سے تذکرہ صفحہ ۲۶- ایڈیشن چهارم