خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 49

خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۳۳ء گزر رہا تھا کہ اس نے سنا دو لڑکے آپس میں کہہ رہے تھے یہ بڑا منافق ہے۔اس کے دل پر اس سے سخت چوٹ لگی۔اور اس نے سوچا کہ اتنی مدت دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا اب دنیا کی عزت وذلت کو نظر انداز کر کے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہیئے۔یہ نیت کر کے وہ جنگل میں چلا گیا۔اللہ تعالٰی کے آگے خوب رویا اور سچی توبہ کی اور کہا کہ اے اللہ ! ب کسی بندے کی طرف میرا خیال نہیں، میرا مقصود تیری ذات ہی ہے۔اس طرح وہ توبہ کر کے آرہا تھا کہ رستہ میں دو آدمی اُسے ملے جو اُسے دیکھ کر کہنے لگے کہ دیکھو اسے لوگ منافق کہتے ہیں، بھلا یہ شکل منافقوں والی ہے۔دنیا بھی کیسی بابل ہے ہمیشہ نیکوں کو بُرا کہتی ہے۔تو اصل بات یہ ہے کہ قلوب اللہ تعالٰی کے اختیار میں ہیں۔ہمارا فرض تبلیغ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کے بغیر اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس لئے ایک طرف تبلیغ کرو اور دوسری طرف دعاؤں پر زور دو۔اور اس گھڑی سے زیادہ خوشی کی گھڑی جو دعا میں گزرے اور کون سی ہو سکتی ہے۔دعا کیا ہے؟ یہ بندہ اور خدا کی رُو در رو گفتگو ہے۔اپنی ماں سے بچھڑا ہوا بچہ جب اُسے دیکھتا ہے۔اِس کا دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔اِسی طرح جس شخص کا اللہ تعالی پر ایمان ہو اُسے دعا میں ایسا لطف آتا ہے کہ دعا کرتے وقت اگر اسے تمام دنیا کی بادشاہت بھی دے دی جائے تو وہ اُسے ٹھکرا دے گا اور کہہ دے گا کہ جاؤ اسے لے جاؤ۔اِس وقت میری آنکھیں میرے محبوب پر لگی ہوئی ہیں۔دعا دراصل اللہ تعالی نے انسان کو مقام محمدی کی ایک جھلک دکھانے کیلئے ایک سلسلہ قائم کیا ہے۔گویا انبیاء کو جو مقام ہر وقت نصیب ہوتا ہے، وہ دُعا کے وقت ہر ایک مومن کو حاصل ہو سکتا ہے۔پس تبلیغ بھی کرو اور ساتھ ہی دعاؤں پر زور بھی دو۔اس طرح ایک طرف تو دنیا کی اصلاح ہو جائے گی اور دوسری طرف تمہاری اپنی اصلاح ہوگی اور تم روحانیت میں ترقی کرو گے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کے بندوں کی اصلاح کرے اور اللہ تعالی اسے کفر و ضلالت کی موت دے۔جو شخص بھولے ہوئے بندوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی شان کبھی پسند نہیں۔کرتی کہ وہ خود گمراہ ہو جائے۔اگر اس کے اندر کوئی نقص بھی ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کو نہیں پاسکتا تو اللہ تعالی اسے خود دور کر دے گا۔اور اس کی موت سے قبل اس کے عمل اگر اسے اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں پہنچا سکے تو اللہ تعالی کی نصرت اسے اس مقام : پر کھڑا کردے گی۔کیونکہ اس نے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور عشق الہی کا ایسا نظارہ پیش کیا کہ اگر