خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 322

خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۳۳ معقول انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ فکر لگا ہوا ہے کہ سلسلہ احمدیہ کی ترقی کیوں نہیں ہوتی۔صاف بات ہے کہ انہیں ہمارے نہیں بلکہ اپنے وقار کو قائم رکھنے کی فکر ہے۔جس کے متعلق وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ روز بروز کم ہوتا جارہا ہے۔اگر ان کا وجود ہمارے راستہ میں روک ہوتا تو ہمیں چاہیئے تھا کہ ہم جا جا کر انہیں چھیڑتے۔لیکن ان کا وجود تو ہمارے لئے روک ہے ہی نہیں۔آج کا نظارہ ہی دیکھ لو۔کیا یہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے روک بنے ہونے کا ثبوت ہے یا اس بات کا کہ وہ ہماری ترقی کے راستہ میں ذرہ بھر بھی رُکاوٹ کا موجب نہیں۔اسی سال کے جلسہ سالانہ پر بیعت اس وقت تک ساڑھے چھ سو سے زائد ہوچکی ہے۔جس میں مجسٹریٹ دوسرے سرکاری افسر گریجویٹ اور بڑے بڑے زمینداروں کی ایک معقول تعداد شامل ہے اور ابھی بہت سے لوگ قادیان میں موجود ہیں۔تعجب نہیں کہ بیعت کرنے والوں کی تعداد سات سو سے اوپر ہو جائے۔پس جبکہ ہمیں ہر روز خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی حاصل ہو رہی ہے تو ہم کیونکر یہ تسلیم کرسکتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا وجود ہمارے راستہ میں روک بنا ہوا ہے۔روک تب ہوتا اگر ہماری تعداد دس ہزار تھی تو ہم تو ہزار رہ جاتے۔تب ہمیں فکر ہوتا کہ ہمارے راستہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کی وجہ سے جو روک واقع ہے، اسے دور کرنا چاہیے۔لیکن ہمیں تو کوئی فکر نہیں۔اور مولوی ثناء اللہ صاحب اشتہار پر اشتہار شائع کر رہے ہیں کہ میری وجہ سے جماعت احمدیہ کی ترقی میں روک واقع ہو رہی ہے، اسے دور کرو۔دراصل ان اشتہاروں سے مولوی شاء اللہ صاحب کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگوں پر یہ ظاہر کریں کہ جماعت احمدیہ کی ترقی کے راستہ میں جتنا میرا وجود روک ہے اور کوئی مخالف مولوی اتنی روک نہیں۔پس یہ اشتهار ہمارے خلاف نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے مخالف مولویوں کی تضحیک و تذلیل کی گئی ہے اور انہیں یہ جتانا مراد ہے کہ صرف میں ہی جماعت احمدیہ کا کامیاب مخالف ہوں۔تمہاری میرے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے؟ حالانکہ اگر وہ یہاں آکر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ ان کا وجود ہمارے لئے ذرہ بھر روک نہیں بلکہ ترقی کا موجب بنا ہوا ہے۔پھر جو مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائے مباہلہ پر بحث کرنے کیلئے چیلنج دیتا رہتا ہوں لیکن مجھے مخاطب نہیں کیا جاتا۔اس کی وجہ بھی میں بتادیتا ہوں۔انہیں مخاطب نہ کرنے کی وجہ تو یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا