خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 308

خطبات محمود ۳۰۸ سال ۱۹۳۳ء نہیں نشانات آپ کی صداقت کے دیکھے ہیں۔جنگ عظیم، انفلوئنزا انقلاب افغانستان، تائی صاحبہ کا احمدیت میں داخل ہونا ہمارے بڑے بھائی کا احمدی ہونا اور اس طرح تین کا چار کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے بعد تو آپ کے ہاں لڑکا پیدا نہ ہو سکتا تھا۔اس لئے یہ الہام اسی رنگ میں پورا ہو سکتا تھا۔غرض اتنے نشانات ہیں کہ ایک منٹ کیلئے بھی اس میں شبہ ہو سکتا کہ یہ سلسلہ بندوں کا محتاج نہیں اور ان میں سے بھی نوجوانوں اور پھر ان میں نفس پر قابو نہ رکھ سکنے والے نوجوانوں کا۔یہ خدا کا کام ہے۔پس اس طریق سے چلو جو اس نے بتایا ہے۔یعنی وَ اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة سے صبر سے ظلم کو برداشت کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے۔لَا تُبقى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكرات یعنی تجھے ذلیل کرنے والی چیزیں ہم باقی نہیں رہنے دیں گے۔اور جب اس قدر الہامات کا پورا ہونا ہم دیکھ چکے ہیں تو اس کی صداقت میں کس طرح شبہ کر سکتے ہیں۔اگر احرار کی کارروائیاں آپ کی سبکی کا موجب ہو سکتی ہیں تو یہ یقینی امر ہے کہ وہ باقی نہیں رہ سکتے۔خواہ تباہ ہو جائیں اور خواہ احمدی ہو جائیں۔پس یہ بات تو ہو کر رہے گی۔جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بدنامی کا موجب بنے ہیں وہ یقینا تباہ ہو جائیں گے۔خواہ آسمانی حملوں سے ہوں خواہ زمینی حملوں سے۔دنیا میں بادشاہ مل کر بھی ان کی عزت قائم نہیں کرسکتے۔لئے گھبراہٹ کا طریق اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کوشش کرو کہ یہ لوگ اس اللہ تعالی کی تلوار سے مارے جانے کی بجائے اس کے رحم کے مستحق بنیں۔- صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک عرب سردار جو بہت محسن آدمی تھا، رسول کریم اے کی داڑھی کو ہاتھ میں لیکر مشفقانہ انداز میں کہہ رہا تھا کہ دیکھو بچہ۔اس پر ایک صحابی نے اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیا کہ پیچھے ہٹاؤ۔اس نے اس کی طرف دیکھا اور کہا تمہیں یاد ہے تم فلاں وقت میں مصیبت میں تھے اور میں نے تم پر احسان کیا تھا۔اس پر وہ صحابی پیچھے ہے اور صحابہ کا جو اس وقت موجود تھے۔بیان ہے کہ ہم سب نے محسوس کیا کہ ہم سب اس کے زیر احسان ہیں۔اس پر اس نے پھر ہاتھ بڑھایا تو حضرت ابو بکر نے اسے ہٹایا۔اس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا ہاں تم پر میرا کوئی احسان نہیں ہے۔حضرت ابوبکر جانتے تھے کہ باقی اس کے احسان کے نیچے ہیں اس لئے کوئی اسے روک نہیں سکے گا۔تو جب کافر کے احسان سے آنکھ اوپر نہیں اٹھ سکتی تو خدا کے احسان کے بعد انسان کس طرح سر کشی کر سکتا ہے۔پس