خطبات محمود (جلد 14) — Page 304
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اثر ان ایام کے واقعات کا ہے جب آپ تکالیف اٹھا رہے تھے۔آپ کی مکی زندگی پر دشمن بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔مگر مدنی زندگی پر کہ جب کچھ شان و شوکت اور طاقت آگئی تھی، اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ وہ بھی ویسی ہی پاک ہے جیسے مکی زندگی مگر اس کے دیکھنے کی کیلئے ایمان کی آنکھ ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو یہی تعلیم دی ہے کہ وہ ہر حال میں صبر سے کام لے۔یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دوسرے نے اشتعال دلایا اور ابتداء کی۔چاہیے کہ ہمارے اعمال ایسے پاک ہوں کہ سوائے اس کے کہ دشمن سراسر جھوٹ بولے اسے اعتراض یا حرف گیری کا کوئی بہانہ نہ ملے۔بعض لوگ فریب سے جھوٹ بنالیتے ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے اور اس کا کسی کے پاس کوئی علاج نہیں۔لیکن ہماری طرف سے کوئی ادنی موقع بھی دوسروں کیلئے اعتراض کا نہیں ہونا چاہیئے۔ہاں جب حقیقی نقصان ہو رہا ہو اس وقت ہر مومن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی عزت ، مال اولاد دوست رشته دار وطن غرضیکہ کسی چیز کی پرواہ نہ کرے بلکہ صرف یہ مد نظر رکھے کہ یا تو اس دنیا میں اللہ تعالی اسے فتح دے یا پھر اخروی زندگی میں۔غرض شکست کا نام تک بھی ہم نہ سنیں۔لیکن عارضی چیزوں کو انسان کو خوامخواہ ایسے مقام پر کھڑا نہیں کرنا چاہیے جو اعتراض کا موجب ہوں۔میرے نزدیک یہ نہایت ہی ذلیل کی بات ہے کہ کوئی دشمن اگر یہاں آتا ہے تو بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ کوئی شرارت نہ پیدا کرے۔مگر وہ کیوں کوشش نہیں کرتے کہ وہ بھی احمدی ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام اسد اللہ رکھا گیا ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر کا بچہ شیر ہی ہوا کرتا ہے ، گیڈر نہیں۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب آپ کو اسد اللہ کہا گیا تو یہ نہیں کہ آپ کو نَعُوذُ باللہ کوئی پنجے دیئے گئے تھے بلکہ آپ جس چیز سے دشمنوں کو مغلوب کرتے تھے وہ دلائل تھے۔گویا آپ دلائل کے شیر تھے۔اگر کوئی تمہاری کچھار میں آتا ہے تو کیوں اسے دلائل سے قائل نہیں کرلیتے۔کیا کوئی شیر کے غار میں جاکر بچ سکتا؟ سکتا ہے۔پس جس قسم کے تم شیر ہو اور جو ہتھیار تمہیں دئے گئے ہیں، ان کا شکار یہاں آنے والے دشمن کو بناؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہتھیار کیا تھے۔آپ دلائل اور دعاؤں کے شیر تھے۔اور آپ انہی چیزوں سے حملے کرتے تھے۔اور تم میں سے ہر ایک جو پیدائشی احمدی نہیں، وہ پہلے ان ہی حملوں کا شکار ہوا تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جو