خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 295

خطبات محمود ۲۹۵ سال ۱۹۳۳ء۔کہ وہ لڑکے جو جلوس میں شامل ہوتے اور اشعار پڑھ رہے ہوتے ہیں وہ ایسے روحانی مقام پر اس وقت فائز ہوتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا انہیں انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے۔اور وہ بے اختیار يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ کہہ رہے ہوتے ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ یہ تصنع ہے بناوٹ ہے اور کچھ نہیں۔وہ کیفیت جس میں پیدا ہو وہ بے شک کہہ لے۔مگر کیا جس میں یہ کیفیت پیدا ہو وہ لوگوں سے پوچھا کرتا ہے کہ میں کہوں یا نہیں۔اس کے منہ سے تو آپ ہی بات نکل جاتی ہے۔ایسی کیفیت خلوتوں اور تنہائی کی گھڑیوں میں بعض خاص لوگوں پر طاری ہوتی ہے، جلوسوں میں نہیں آسکتی۔پھر جب یہ کیفیت آتی ہے تو تصنع نہیں ہوتا یہ کیفیت جب جلوس میں بھی طاری ہو تو کشفی حالت ہی ہوگی۔پس ایسے تمام اشعار جن میں خدا تعالیٰ کی توحید کے خلاف باتیں پائی جاتی ہوں، ان کے پڑھنے میں رسول کریم ان کی عزت نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کی کوئی ہتک نہیں ہو سکتی۔گویا آپ کا مقصد توحید پرستی نہیں تھی بلکہ نَعُوذُ بِاللهِ۔آپ نے لوگوں سے حضرت عیسیٰ کی پرستش کی بجائے اپنی پرستش شروع کرادی اور یہ ایک نہایت ہی نامعقول اور رسول کریم ال کی ہتک کرنے والی بات ہے۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے کئی بار سمجھایا پھر بھی یہ بیہودگی نظر آجاتی ہے اور ہمیشہ سے جلوس میں ایسے تختے نظروں کے سامنے آتے رہتے ہیں جن پر يَا مُحَمَّدُ لکھا ہوتا ہے۔نہ معلوم جو منتظم ہیں وہ " قرآن مجید اور سلسلہ کے لٹریچر کو نہیں پڑھتے۔اور اس امر کو بھی نہیں سمجھتے کہ رسول کریم کی بعثت کی غرض کیا تھی۔یا نہ معلوم کیا بات ہے کہ وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے اچھے شعر ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فارسی، اردو اور عربی میں رسول کریم ﷺ کی شان میں کہتے ہیں۔انہیں سن کر کوئی انسان رسول کریم ﷺ کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ اشعار لڑکوں سے پڑھاؤ۔حضرت مسیح موعود کی نظمیں انہیں یاد کراؤ۔یہ کیا کہ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ " کہنا شروع کر دیا۔تم يَا مُحَمَّدُ ہزار سال کہتے رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے اب وہ دنیا میں نہیں آسکتے۔تم يَا مُحَمَّدُ کی بجائے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرو جو تمہاری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اور تم ابھی پوری بات بھی نہیں کہہ چکے ہوگے کہ وہ تمہارے قریب آجائے گا۔وہ خود کہتا ہے۔اِنّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ہے۔میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کا میں جواب دیتا ہوں۔مگر جو رہو۔