خطبات محمود (جلد 14) — Page 296
خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۳۳ قریب ہی نہیں اور جس کے اور ہمارے درمیان ایک بہت بڑی دیوار حائل ہے اسے پکارنا کیا اور اس سے جواب کی امید رکھنا کیا؟ پس ایک تو جلوسوں میں ایسا رنگ مت اختیار کرو جو تھیٹر والا ہو یا جس میں مشرکانہ طریق پایا جاتا ہو۔ہمیں اگر رسول کریم محبوب ہیں تو اسی لئے کہ آپ نے دنیا میں توحید قائم کی۔ورنہ ان میں اور دوسرے انسانوں میں بظاہر کیا فرق ہے۔آپ نے خدا کی بڑائی قائم کی پس وہ خود بھی بڑے ہو گئے۔اور دراصل جتنا جتنا کوئی خدا کی بڑائی ظاہر کرتا ہے اسی قدر وہ خود بھی بڑا بنتا جاتا ہے۔رسول کریم ال نے چونکہ اپنی ذات کو مٹادیا اور چونکہ آپ نے اپنے نفس کی بجائے اللہ تعالی کی وحدانیت کو قائم کیا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی آپ کو لازوال بزرگی عطا کی۔کیونکہ جب انسانی وجود مٹ جائے تب خدا ہی خدا نظر آیا کرتا ہے۔پس صحیح طریق اختیار کرو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی محبت تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بتایا ہے۔شخص اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے سب چیزوں کی جڑ تقوی اللہ ہے باقی اللہ تعالیٰ کے نبی رسول، خلفاء مجدد، صدیق، صلحاء اور اولیاء سب اللہ تعالی تک پہنچنے کے ذرائع ہیں۔ہمارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔یہ بیوقوفی ہوگی اگر چھوٹے کی محبت کیلئے بڑے کی عظمت کو قربان کر دیا جائے۔پس جلوس میں تصنع نہیں ہونا چاہیئے، سادگی اور اخلاص ہونا چاہیئے۔مجھے اس وقت یاد نہیں مگر کئی شعر ایسے پڑھے جاتے ہیں جن میں شرک کی بو ہوتی ہے ان کا پڑھنا ہرگز درست نہیں۔حضرت سیح موعود علیہ السلام کا کلام پڑھو۔درثمین وغیرہ میں سے کچھ حصوں کا انتخاب کرلو۔اس میں ضرور مشکلات بھی پیدا ہوں گی۔مثلاً یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں لڑکوں کو یاد کرانی پڑیں گی۔لیکن اس کے مقابلہ میں جو فائدہ ہے وہ بہت بڑا ہے۔اس سے نہ صرف ظاہری لحاظ سے لوگوں پر عمدہ اثر پڑے گا اور وہ رسول کریم ﷺ کے کمالات سے واقف ہوں گے بلکہ باطنی طور پر بھی فائدہ ہوگا۔اور لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوگا کہ ہم بھی ایسے اشعار لکھیں۔جن سے رسول کریم ﷺ کے حالات لوگوں کے سامنے آئیں۔ایک نعت کہنے کا پرانا طریق تھا۔اور وہ یہ کہ اشعار میں ذکر کیا جاتا رسول کریم اللہ کا ناک ایسا خوبصورت تھا کان ایسے تھے، رنگ ایسا تھا، قد ایسا تھا۔اس سے غیر مسلموں میں مسلمانوں کو