خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 279

خطبات محمود ۲۷۹ سال ۱۹۳۳ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کا مصداق بننا چاہیئے (فرموده ۱۷ - نومبر ۱۹۳۳ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ ایک طرف تو اپنے گردو پیش کے اثرات کو قبول کرنے کیلئے بڑی شدت سے مائل رہتا ہے۔اور دوسری طرف اس میں یہ بھی طاقت ہے کہ اگر چاہے تو ایسے اثرات کو قبول کرنے سے انکار کردے۔گویا ایک طرف تو وہ ایک چٹان ہے ایسی مضبوط چٹان کہ جس سے سمندر کی تیز لہریں ٹکرا کر ہمیشہ واپس لوٹ جاتی ہیں اور اس پر ذرہ بھی نشان پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔اور دوسری طرف وہ ایک پہنچ کے ے کی طرح یا نرم موم کی طرح ہے کہ اس پر ہاتھ ڈالتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں طاقت مقابلہ ہے ہی نہیں۔اور یہ دونوں چیزیں انسان کے تمام اعمال کی جڑ ہیں۔یعنی کسی جگہ پر اثر کو قبول کرنا اور کسی جگہ پر ردّ کر دینا۔نہ تو ہر جگہ اثر قبول کرنا مفید ہو سکتا ہے اور نہ ہر جگہ رد کر دینا۔قرآن مجید میں اللہ تعالٰی مومنوں کی یہ صفت بیان فرماتا ہے کہ وہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ له - ہوتے ہیں۔یعنی یہ نہیں کہ وہ ہر اثر کو قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو وہ شیطان کا اثر بھی قبول کر لیتے ہیں اور یہ بھی نہیں کہ کسی کا اثر قبول کرتے ہی نہیں۔کیونکہ اس صورت میں وہ فرشتوں کے اثر کو بھی رو کردیتے ہیں۔بلکہ مومن کے اندر دونوں باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ان میں سے ایک کو اپنے اندر پیدا کر کے انسان