خطبات محمود (جلد 14) — Page 163
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء۔اس پر چڑھ گئیں۔یہی وہ ٹیلہ ہے جسے مروہ کہا جاتا ہے۔انہیں وہاں سے بھی پانی کا کوئی نشان دکھائی نہ دیا۔جب وہ صفا اور مروہ کے اوپر ہوتیں تو وہاں سے انہیں حضرت اسماعیل نظر آجاتے۔لیکن جب نیچے اُترتیں تو وہ نظروں سے پوشیدہ ہو جاتے، اس لئے بے تابانہ طور پر وہ دوڑتی تھیں۔حج کے موقع پر صفا و مروہ پر دوڑتا اسی چیز کی یادگار ہے کہ ایک ماں اپنے بچہ کو آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھی۔اس یاد کو تازہ رکھنے کیلئے آج بادشاہ اور غریب بڑے اور چھوٹے صاحب وقار اور غیر ذی وقار سب کو وہاں دوڑنا پڑتا ہے۔خواہ ان کا دل دوڑنے کو چاہے یا نہ۔میں نے دیکھا ہے لوگوں کے دوڑنے پر بعض لوگ ہنستے بھی ہیں محول بھی کرتے ہیں۔بعض بدو دوڑنے والوں کے درمیان سے اپنے گدھوں کو ہانک دیتے ہیں تاکہ وہ ان کی دوڑ میں روک بن جائیں مگر لوگ دیوانہ وار دوڑتے چلے جاتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ آج وہاں کوئی زندہ نشان ہے بلکہ اس لئے کہ آج سے ہزار ہا سال پہلے حضرت ہاجرہ وہاں اس لئے دوڑی تھیں کہ ان کا بچہ ان کی نظر سے اوجھل نہ ہو۔وہ ماں کی محبت کا بہترین مظاہرہ تھا۔آج جو اللہ تعالٰی ہم سے یہ کام کراتا ہے تو آخر کیوں کراتا ہے۔ہزاروں مائیں دنیا میں آج بھی ایسی ہیں کہ اگر انہیں اپنے بچوں کیلئے جان قربان کرنی پڑے تو کر دیں۔غرض جو کچھ حضرت ہاجرہ نے کیا اس سے زیادہ کرنے والی مائیں دنیا میں آج بھی مل سکتی ہیں۔مگر کیوں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کے واقعہ کو تازہ رکھا اور کیوں باقی ماؤں کے واقعات کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی۔اس لئے کہ باقی مائیں اس لئے بچوں کیلئے قربانی کرتی ہیں کہ اتفاق ان کو مصیبتوں میں ڈال دیتا ہے۔مگر حضرت ہاجرہ نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالا۔جب حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم نے وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا تو اُس وقت انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا اے ابراہیم! ہمیں کہاں چھوڑے جاتے ہو۔یہاں تو پینے کیلئے پانی نہیں کھانے کیلئے غذا نہیں۔کوئی آدمی نہیں جس سے امداد لی جاسکے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام رقت کی وجہ سے اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔اور جب بار بار پوچھنے کے باوجود وہ خاموش رہے تو حضرت ہاجرہ نے پوچھا کیا خدا کے حکم کے ماتحت ہمیں یہاں چھوڑے جاتے ہو۔انہوں نے کہا ہاں۔یہ سن کر حضرت ہاجرہ معالوٹیں۔اور انہوں نے کہا اگر یہ بات ہے تو پھر خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گانا۔یہ کہا اور بغیر اس خواہش کے کہ یہ معلوم کریں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کس رستہ سے واپس جارہے۔