خطبات محمود (جلد 14) — Page 102
خطبات محمود ١٠٢ سیال ۱۹۳۳ء رمیانی وقفوں میں اگر مٹھائی یا کوئی میوہ وغیرہ کھاتے ہیں تو اس کے بعد منہ کی صفائی نہیں کرتے۔یا لمبے عرصہ تک خاموش رہنے اور منہ بند رکھنے کے بعد بھی منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے لوگ بھی صفائی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور جب مجلس میں ایسے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے تو ہر ایک کی تھوڑی تھوڑی بُو مل کر ایسی تکلیف وہ چیز بن جاتی ہے کہ بیسیوں کمزور صحت والوں کو سردرد، نزلہ اور کھانسی وغیرہ کی شکایت ہو جاتی ہے۔- اسلام نے ہمارے لئے ہر بات کے متعلق احکام رکھے ہیں۔یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں۔اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدن ہے۔اسلامی تمدن نماز کا نام نہیں، روزے کا نام نہیں، زکوۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیر پیدا کر دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائیٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے۔یورپین لوگ یوں تو صفائی کے بڑے پابند ہیں۔مگر کھانا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کرنے کے وہ بھی عادی نہیں۔اور اس وجہ سے اگر ان کے اُن پوڈروں اور بوڈی کلون وغیرہ خوشبوؤں کو نکال دیا جائے جو وہ اپنے چہروں پر ملتے ہیں تو صاف طور پر ان کے منہ سے بدبو محسوس ہوتی ہے۔اب چونکہ انہیں ہندوستانیوں سے ملنے کا وقع ملا ہے، اس لئے آہستہ آہستہ ان میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے اور مجھے بھی بعض انگریزوں سے ملنے کا موقع ملا ہے میں نے دیکھا ہے کہ اب مسلمانوں سے مل کر وہ صفائی کے اس پہلو کو بھی سیکھ رہے ہیں۔غرض مجلس میں آنے والوں کو یہ امور مد نظر رکھنے چاہئیں اگر کسی شخص کو بغل گند ہو یا اُس کے ہاتھوں کی انگلیاں خراب ہوں اور ان میں ایسی بُو ہو جو دوسروں کو ناگوار گزرے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسی صفائی کے بعد مجلس میں آئے جس سے اس کے اثر کو کم سے کم معتر بنایا جاسکے۔یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج پیدا کیا ہے لیکن اگر کسی کو علاج میسر نہیں آتا تو وہ عارضی صفائی کے بعد مجلس میں آیا کرے۔پھر مجلس میں ان چیزوں کے بعد ایک اور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب لوگ بیٹھتے ہیں تو ایسا تنگ حلقہ بناتے ہیں کہ اس میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ مجلس میں زیادہ دیر بیٹھنے کو میرا جی چاہا مگر تنگ حلقہ کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں مجھے سردرد ہو گیا اور میں اُٹھنے پر مجبور ہو گیا۔اور بسا اوقات میں صحت کے ساتھ مجلس میں بیٹھتا ہوں اور بیمار ہو کر اُٹھتا ہوں۔ہر شخص اپنے اخلاص میں یہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں ایک انچ