خطبات محمود (جلد 14) — Page 92
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سکتی۔ پھر بعض سوگز سے آگے نہیں دیکھ سکتے ۔ بعض دو سو گز سے آگے اور بعض میل سے آگے نہیں دیکھ سکتے ۔ اب اگر میل سے زیادہ فاصلہ پر کوئی فوج ہو تو وہ یہی کہیں گے کہ ہماری تباہی کے کوئی سامان نہیں ہو رہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی نظر چونکہ کمزور ہے، اس لئے وہ دیکھ نہیں سکتے ۔ تو جب بھی کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے۔ آسمانی سامان چونکہ لوگوں کو نظر نہیں آتے ، اس لئے وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ چند دن کی بات ہے۔ لیکن انبیاء کو چونکہ خاص نظر عطا کی جاتی ہے، وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کی تائید کیلئے آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کرم دین کی طرف سے گورداسپور میں جب مقدمہ چل رہا تھا تو مجسٹریٹ کو آریوں نے ورغلایا کہ مرزا صاحب کو ضرور سزا دے دو۔ کیونکہ ایسا موقع پھر نہیں ملے گا۔ اور سزا بھی تھوڑی دینا جس کی اپیل نہ ہو سکے۔ اور وہ بھی اس کیلئے بالکل تیار تھا۔ بعض دوستوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کا ذکر کیا۔ اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ ایسی متوحش خبر سنی ہے اور معتبر ذریعہ سے سنی ہے کیونکہ اس کا راوی ایک معتبر ہندو تھا۔ بعض ہندوؤں کو بھی راستی سے اُلفت اور پیار ہوتا ہے اگر چہ بظاہر وہ اپنی قوم میں شامل رہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ہندو نے یہ بات بتائی تھی۔ وہ دوست سناتے ہیں کہ جس وقت یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنائی گئی، آپ چار پائی پر گہنی کا سہارا لے کر لیٹے ہوئے تھے اور دوست اردگرد بیٹھے تھے۔ یہ بات سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا آپ لوگ گھبراتے کیوں ہیں ، کون ہے جو خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکے ، وہ ایسا کر کے تو دیکھے۔ اب وہ ایک نگاہ تھی جسے اللہ تعالیٰ نے تیز کیا ہوا تھا۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ انجام کیا ہوگا ۔ حالات وہی تھے مگر آپ کو ایک کام چونکہ آسمان پر ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا ، اس لئے آپ بے فکر تھے۔ لیکن دوسروں کو چونکہ یہ نظر حاصل نہ تھی اور وہ ظاہری حالات کو ہی دیکھ سکتے تھے، اس لئے ان کے اندر گھبراہٹ کا پیدا ہونا لازمی تھا۔ رسول کریم صلی السلام کی زندگی کا بھی ایک اسی قسم کا واقعہ ہے۔ جب آپ حضرت ابو بکر کے ساتھ غار ثور میں گئے تو دشمن اس قدر سر پر آگیا کہ ذرا سر جھکا تا تو دیکھ سکتا تھا۔ غار ثور ایک اچھی کھلی جگہ ہے اور باہر کھڑے ہو کر اگر دیکھا جائے تو اندر بیٹھا ہوا آدمی صاف نظر آسکتا ہے۔ دشمن اس غار کے بالکل منہ پر کھڑا تھا اور اتنا قریب کہ اگر ذرا بھی سر جھکائے تو دیکھ لے۔ اس وقت حضرت ابوبکر کے دل میں 90