خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 82

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کر سکتا ہو ممکن ہے اسے فریب سے بھی شکست ہو جائے اور ممکن ہے وہ باوجود دغا کے بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ مگر سمجھتا یہی ہے۔ اُس وقت لالچ اور حرص اس میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے میں ایک قدم ہاں حرص صرف ایک قدم گناہ کی طرف اُٹھاتا ہوں، پھر میرے لئے نیکی کے دروازے کھلے ہیں۔ مگر وہ نہیں سمجھتا کہ اس ایک قدم کے اٹھانے سے وہ نیکی سے دور چلا جائے گا ۔ گناہوں کے قریب ہو جائے گا۔ اور جب تک سچی توبہ کر کے واپس نہیں آئے گا وہ گناہوں میں بڑھتا چلا جائے گا۔ تم ایک قدم شمال کی طرف اُٹھاؤ کبھی جنوب کی طرف دوسرا قدم نہیں اُٹھے گا۔ جب تک شمال کی طرف منہ نہ پھیر لو، جب تک اس طرف سے رجوع نہ کرلو۔ پس یہ خیال کہ تھوڑی سی غلطی کے بعد پھر نیکی کے اختیار کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، بہت بڑی غلطی ہے۔ ہر غلطی دوسری غلطی کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک دوسری کی طرف، دوسری تیسری کی طرف، تیسری چوتھی کی طرف۔ پھر موت کی سی تو بہ کئے بغیر گناہ آلودہ زندگی سے نجات ممکن نہیں ہوتی ۔ مگر کون موت تلاش کرتا ہے، بہت کم اور بہت کم ۔ گناہوں کی طرف قدم اُٹھانے والے زیادہ ہوتے ہیں مگر موت والی تو بہ کرنے والے کم ہوتے ہیں ، اور اگر غلطی کی طرف قدم اُٹھا کر خیال کر لیا جائے کہ یہی فتح کا راستہ ہے اور بظاہر فتح حاصل بھی ہو جائے تو یہ ایک دن نیکی کی فتح کی بجائے ظلم اور تعدی کی فتح کہلائے گی۔ پس ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئیے کہ ہمارا مقصد فتح نہیں بلکہ نیکی اور تقوی کی فتح حاصل کرنا ہے۔ ہمارا مقصد دین اسلام کے احکام کے مطابق فتح حاصل کرنا ہے۔ اور یہ چیزیں حاصل نہیں ہوتیں جب تک انسان خدا کیلئے موت قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو۔ موت اور صرف موت کے ذریعہ یہ فتح حاصل ہو سکتی ہے۔ اور جو موت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اسے فتح بھی حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ پھر موت بھی ایک وقت کی نہیں بلکہ وہ جو ہر منٹ اور ہر گھڑی آتی ہے۔ کتنی مائیں ہیں جو کنویں میں گرتے ہوئے بچے کو دیکھ کر خود کو نہیں پڑیں گی۔ میں سمجھتا ہوں بہت کم ۔ اسی فیصدی بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ مائیں ایسی ہوں گی کہ اگر ان کا بچہ پانی میں گر پڑے تو وہ پانی کے کنارے پر کھڑے ہو کر نہیں روئیں گی بلکہ وہ بغیر سوچے سمجھے اس میں گود جائیں گی ۔ بے شک اگر وہ تیر نا نہیں جانتی تو ڈوب جائیں گی ۔ مگر گو دتے وقت ان کے دل میں یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہم غرق ہو جائیں گی۔ اُس وقت ایک ہی خیال ان کے دل میں ہوگا کہ 80