خطبات محمود (جلد 14) — Page 71
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء نے بتایا کہ میں نے جب مولوی محمد حسین صاحب کی تحریریں پڑھیں تو مجھے ان میں اس قدر غصہ اور دیوانگی نظر آئی کہ جب تک حقیقی خطرہ سامنے نہ ہو اُس وقت تک وہ غصہ اور دیوانگی پیدا نہیں ہو سکتی۔پس میں نے اُس وقت سمجھا کہ ضرور حضرت مرزا صاحب میں صداقت ہے۔تب میں نے درثمین وغیرہ پڑھی۔اور مجھے معلوم ہو گیا کہ دشمن جو کچھ کہتے ہیں ، غلط ہے۔میں حضور کی بیعت کیلئے قادیان آیا۔تو اللہ تعالٰی اِس ذریعہ سے بھی شریف الطبع لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ ایک قوم جو اسلام کی خدمت کر رہی ہے آخر کیا وجہ ہے کہ اسے اس قدر گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔اور جب وہ سوچتے ہیں تو انہیں ہدایت مل جاتی ہے۔ابھی دیکھ لو خواجہ حسن نظامی صاحب اور اخبار حقیقت لکھنو" وغیرہ نے اعلان کر دیا ہے کہ ہم ان گالیوں سے بیزار ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریف لوگوں کے دلوں پر یہ اثر ہو رہا ہے کہ احمدیوں پر بلاوجہ ظلم کیا جا رہا ہے۔پس یہ نیک اثر ہے اور اس اثر کو بڑھنے دو۔باقی ایک ہی ڈر ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ دشمن ہمیں کہیں مار نہ ڈالیں۔مگر ایک ساعت کیلئے بلکہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کیلئے بھی جس شخص کے دل میں یہ خیال آتا ہے اس کے اندر ایمان کی ایک رائی کا کروڑواں حصہ بھی داخل نہیں ہوا۔میں تو یقین رکھتا ہوں کہ یہ دشمن کیا اگر نگریز اور جرمن اور چین اور جاپان اور روس اور اٹلی وغیرہ تمام حکومتیں بھی مل جائیں تب بھی وہ ہمیں تباہ نہیں کر سکتیں اور اگر تباہ کر دیں تو یقیناً ہمارا سلسلہ جھوٹا ہے۔بنی نوع انسان تمام کے تمام مل جائیں، امراء غرباء علماء و ادباء" بڑے اور چھوٹے، عالم اور جاہل، مرد اور عورتیں اجتماعی حیثیت میں بھی ہمارے سلسلہ کو مٹادیں۔تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوگا اور یہ ت یقینی ہوگی کہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا اور ہم بھی اپنے دعوئی میں کاذب ہیں۔مشرق اور مغرب کے لوگ، شمال اور جنوب کے باشندے بھی اگر مل جائیں تو وہ ایک تنکا کے برابر بھی ہمیں اپنی جگہ سے ادھر اُدھر نہیں کرسکتے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا سلسلہ ہے اور وہ خود اس کا محافظ اور نگران ہے۔تمہارا کام ہے کہ تم محبت اور پیار سے لوگوں کو سمجھاؤ۔اور اگر کوئی مخالفت میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو تم اُس کیلئے دعاؤں میں بڑھتے چلے جاؤ۔کیونکہ برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اُس کے اندر ہو۔اگر وہ گالیاں دیتے ہیں تو دیں کیونکہ ان کے پاس گالیوں کے سوا اور کوئی چیز نہیں۔مگر تمہارا فرض ہے کہ تم نرمی اور محبت کا ثبوت پیش کرو بات