خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 61

خطبات محمود 41 سال ۱۹۳۳ء دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث کیا اور یہ یقینا سچ ہے۔اگر یہ سچ ہے کہ ہم نے اس ماہور کو جو اس نے بھیجا صدق دل سے تسلیم کیا اور یہ یقینا سچ ہے، تو پھر یقینا یہ بھی سچ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم دنیا کی کوئی طاقت اور دنیا کی کوئی حکومت ہمیں مٹا نہیں سکتی۔ہم رسول کریم ﷺ سے وابستگی کی وجہ سے اور ان بشارات کی وجہ سے جو پہلی کتب میں آپ کے متعلق ہیں، وہ کونے کا پتھر ہیں کہ جو ہم پر گرے گا وہ چکنا چور ہو جائے گا اور جس پر ہم گریں گے اسے بھی ہیں کر رکھ دیں گے۔پس یہ خیال کرنا کہ دنیا کی مخالفتیں، دنیا کی شرارتیں اور دنیا کی عداوتیں ہمارا کسی قسم کا نقصان کر سکیں گی، بالکل غلط ہے۔ہم خدا تعالی کی گود میں ہیں اور جو خدا کی گود میں ہو، اسے کوئی ہلاک نہیں کر سکتا۔ہم پر ابتلاء آتے ہیں تو آنے دو۔یہ ویسے ہی ابتلاء ہیں جیسے بچہ جب اپنی ماں کی گود میں ہوتا ہے تو بعض دفعہ وہ اس کی صحت کی خاطر اسے دودھ پلانا بند کر دیتی ہے۔وہ اپنے بچے کی دشمن نہیں ہوتی بلکہ اس کی صحت کی محافظ ہوتی ہے۔اسی طرح اگر خدا تعالٰی بھی بعض اوقات ہمیں مصائب میں ڈالتا ہے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہماری اصلاح ہو جائے۔اور پیش آمدہ ابتلاؤں سے بچنے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم نہ اپنی اصلاح چاہتے ہیں اور نہ ان کے نتیجہ میں جو اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوا کرتے ہیں، وہ حاصل ) پرا۔کرنا چاہتے ہیں۔پس میں یہاں اس لئے آیا ہوں کہ آپ لوگوں کو بتاؤں کہ ان خیالات کو جانے دو کہ حکومت سے امداد کی درخواست کی جائے یا پبلک سے کسی قسم کی اپیل کی جائے۔اس وقت ہمارا کوئی دوست نہیں، نہ حکومت دوست ہے نہ پبلک ہماری دوست ہے۔عیسائی ہمارے کس طرح دوست ہو سکتے ہیں جبکہ ہم عیسائیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ہندو اور سکھ کسی طرح دوست ہو سکتے ہیں جبکہ ہم ان کے عقائد کو بھی غلط ثابت کرتے ہیں۔اسی طرح کوئی تنظر سیاست ہماری کس طرح دوست ہو سکتی ہے جبکہ ہم سب سے بڑی سیاست ہیں۔اور جو تقسیم ہماری جماعت کے اندر ہے وہ اور کسی جماعت میں نہیں پائی جاتی۔پھر پبلک بھی ہماری دوست نہیں ہو سکتی کیونکہ کونسا وہ فرقہ ہے جسے ہم فتح کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔یہی حال دوسرے مذاہب والوں کا ہے۔پس کوئی جماعت نہیں جو ہمارے ساتھ دوستی رکھتی ہو اور نہ کوئی جماعت ہمارے ساتھ حقیقی محبت کرتی ہے۔ہمارے تعاون کی وجہ سے اگر حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت سے ہمارا کلی طور پر تعاون ہو سکتا