خطبات محمود (جلد 14) — Page 55
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ٹرنچز (TRENCHES) کہتے ہیں ۔ کوئی انسان جو ٹرنچز کو چھوڑ کر جنگ کرے، اسے کامیابی کی امید نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ خندقیں اسی لئے کھودی جاتی ہیں کہ انسان ان کی حفاظت میں رہ کر دشمن سے لڑائی کرے۔ اسی طرح امام کی حفاظت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ اور جو شخص اپنے امام کی آواز کے بغیر اور اُس کی حفاظت کے بتلائے ہوئے طریق کے علاوہ دشمن سے جنگ کرتا ہے، وہ کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتا۔ پس میں سمجھتا ہوں اس اہم اور نازک موقع پر جو نہ صرف لاہور میں خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے بلکہ باہر بھی مختلف مقامات پر رونما ہو رہا ہے، میرا فرض ہے کہ میں جماعت کو وہ ہدایات دوں جن سے اپنے آئندہ طریق عمل کو درست رکھ سکے۔ سب سے پہلے میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ فتنے اور ابتلاء کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ جب سے انسان پیدا کیا گیا ہے، جب سے خدا کا کلام نازل ہونا شروع ہوا اور جب سے خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنا قرب عطا کرنے کا وعدہ کیا، اُسی وقت سے ابتلاؤں کا سلسلہ شروع ہے۔ اور رسول کریم صلیم فرماتے ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کا پیارا ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ ابتلاء اور مصائب دیکھا کرتا ہے ۲۔ اور قرآن شریف میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مت خیال کرو کہ تم ایمان لے آئے اور اب تمہیں ابتلاء میں نہیں ڈالا جائے گا بلکہ جب تک اللہ تعالیٰ ابتلاؤں کے ذریعہ تمہارے ایمان کی آزمائش نہ کرے، اس وقت تک تمہیں ایمان کے مطابق ثمرات حاصل نہیں ہوں گے ۔ ان ابتلاؤں کے آنے کی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اس کے بندے کے ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے سامنے بھی یہی ابتلاء اُس کی قوت ایمان کا ثبوت ہوں۔ یوں دنیا میں ہر شخص دعوی کرتا ہے کہ میں بڑا نیک ہوں اور دعویٰ کرتا ہے کہ میرا ہی طریق عمل درست ہے۔ تم ہندوؤں ، عیسائیوں اور سکھوں میں سے کسی کے پاس چلے جاؤ ، ان میں سے ہر ایک یہی کہتا سنائی دے گا کہ میرا مذہب ہی سچا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ان میں سے ہے جو اس دعوی کو اپنے عمل سے بھی ثابت کرتا ہو اگر اس نقطہ نگاہ سے مذاہب کا موازنہ کیا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ ایسا شخص صرف مومن اور پکا مومن ہی ہوتا ہے ۔ کچھ سال ہوئے میں شملہ گیا ، وہاں کی آریہ سماج کے سیکرٹری صاحب جو گریجوئٹ تھے، مجھ سے ملنے کیلئے آئے اور ان سے مذہبی گفتگو شروع ہوگئی ۔ دورانِ گفتگو وہ 53