خطبات محمود (جلد 14) — Page 54
خطبات محمود ۵۴ سال ۱۹۳۳ کہنے لگے کیا آپ بتاسکتے ہیں مرزا صاحب نے آپ کو وہ کیا چیز دی ہے جو مجھے حاصل نہیں۔میں اس سوال کے اور بھی جواب دے سکتا تھا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فیوض و برکات کے ثبوت میں الہام الہی کا دروازہ کھلنا بھی پیش کر سکتا تھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اُن فضلوں کو پیش کر سکتا تھا جو آپ کی متابعت سے مجھ پر نازل ہوئے۔مگر میں نے اُس وقت کی گفتگو کے مطابق کہا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یقین بخشا ہے۔ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی اور انہوں نے کہا یقین! بھلا یہ کس مذہب والے کو حاصل نہیں؟ اوروں کا ذکر اگر جانے بھی دیا جائے تو کم از کم مجھے یہ یقین ضرور حاصل ہے۔اور اگر یقین ہی ایسی نعمت ہے جو آپ کو مرزا صاحب کی وجہ سے ملی تو آپ نے اسلام کو کیوں ترجیح دی؟ کیوں آپ آریہ سماج کو سچا مذہب نہیں سمجھتے جبکہ اس میں بھی انسان کو یقین حاصل ہو سکتا ہے۔میں نے کہا اس لئے کہ یقین کا مفہوم جو آپ سمجھتے ہیں، وہ میں اس وقت مراد : نہیں لے رہا۔جس قسم کا یقین آپ پیش کرتے ہیں وہ عیسائیوں کو بھی حاصل ہے۔اور ان میں بھی اس یقین کی وجہ سے جانی، مالی اور وقتی قربانی کرنے والے سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔اپنے میں مان لیتا ہوں کہ وہ اس یقین کی وجہ سے اپنی جانیں بھی عیسائیت کی راہ میں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔میں مان لیتا ہوں کہ وہ اپنی عزت و ناموس کو اپنے مذہب کی خاطر قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔میں مان لیتا ہوں کہ وہ اپنے بیوی بچوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔غرض میں مان لیتا ہوں کہ وہ جان و مال عزت و آبرو حتی که بیوی بچوں کی قربانی کیلئے بھی تیار ہیں۔مگر اس قسم کی قربانی دوسرے فرقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔اور آپ کو تو صرف دعوی ہے، عیسائیوں میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ ایک پادری چین یا افریقہ میں مارا گیا تو اس کی قوم ڈری نہیں بلکہ اُس کی جگہ لینے کیلئے بیسیوں درخواستیں پہنچ گئیں۔کلیسیا کی تاریخ میں اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔اور تاریخی واقعات سے ثابت ہے کہ بعض جگہ عیسائی مشنری مارے گئے، بعض جگہ ان کے گوشت کھائے گئے، مگر باوجود اس کے وہ قوم ڈری نہیں۔بلکہ ہزاروں مرد اور عورتیں اُسی وقت اپنی خدمات پیش کر دیتے رہے۔پس میں نے کہا کہ اگر یقین کے یہ معنے ہیں تو میں انہیں تسلیم نہیں کرتا۔آپ اپنی قوم کیلئے اپنا سارا مال بھی قربان کر سکتے ہیں، اپنی جان بھی قربان کرسکتے ہیں بلکہ