خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 48

خطبات محمود تدش سال ۱۹۳۳ء اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں تیری اولاد کو بڑھاؤں گا اور ترقی دوں گا۔ غرض آپ کو اللہ تعالیٰ نے جن انبیاء کے نام دیئے ان کی روحانی تائیدیں بھی ساتھ دیں۔ صرف الفاظ ہی الفاظ نہیں ہیں ۔ یا مثلاً جامع کمالات نبی کا نام آپ کو دیا گیا اور آپ کو ان کا شاگرد اور مظہر قرار دیا تو ان کے نشانات بھی آپ کو دیئے ۔ نبی کریم صلی السلام کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے کہ اس کا مثل کوئی کلام نہیں ۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ وعدہ کیا کہ ہم تجھ سے ایسا کلام لکھوائیں گے کہ دنیا اس کی مثل لانے سے قاصر رہے گی۔ چنانچہ آپ نے دنیا کو یہ چیلنج دیا مگر کوئی مقابلہ پر نہ آسکا۔ رسول کریم سلیم کا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے کلام کی معرفت عطا کی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ایسے معارف و حقائق سکھائے کہ اس میں بھی کسی کو بھی آپ کے مقابل پر آنے کی جرات نہ ہوئی۔ غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو نام دیا اس کے ساتھ روحانی تائید بھی دی۔ مگر ہر چیز کا جس طرح ایک روحانی پہلو ہوتا ہے، اسی طرح مادی بھی ہوتا ہے۔ جس طرح حضرت کرشن کا روحانی حلہ یہ ہے کہ گئو صفت لوگ آپ کو دیئے گئے۔ اسی طرح اس کا مادی یا جسمانی حلہ یہ ہے کہ ان کی قوم آپ کو مان لے۔ جس طرح حضرت عیسی کی دعاؤں کی قبولیت کا معجزہ روحانی حلہ ہے جو آپ کو دیا گیا۔ اسی طرح ان کا جسمانی حلہ یہ ہے کہ ان کے ماننے والے آپ کی جماعت میں داخل ہو جائیں۔ پھر جس طرح حضرت موسیٰ کا عصا اور ید بیضاء عطا کیا جو حضرت موسی کا روحانی حلہ ہے ان کا جسمانی حلہ یہ ہے کہ یہودی آپ پر ایمان لائیں ۔ جس طرح زرتشت نبی کی تعلیم کی وسعت آپ کو دی گئی جو روحانی حلہ ہے اسی طرح اس کا جسمانی پہلو یہ ہے کہ ان کو ماننے والے آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ اور ایک شخص کا کسی کا وارث ہو جانا اسی مقام پر اسے کھڑا کر دیتا ہے۔ جب ایک بادشاہ فوت ہو اور دوسرا اس کی مملکت کا حکمران مقرر ہو تو وہی نام وہ اختیار کر لیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا کام تھا وہ اس نے کر دیا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عیسیٰ، حضرت کرشن اور دیگر انبیاء کے نام اور ان کے کمالات عطا کر دیئے اور ظالی طور پر آپ کو محمد آپ کو محمدصلی السلام کا نام اور آپ کے کمالات بھی دیئے ۔ اب دوسرے حصہ کو پورا کرنا ہمارا کام ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر اُمت کے لوگوں کو لا کر آپ کی جماعت میں داخل کریں۔ ہمارا یہ یوم التبلیغ کیا تھا وہ 46