خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 48

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء مار کر مخالف کے دانت باہر نکال دوں گا۔دو لڑکے جب آپس میں لڑ رہے ہوں تو جو مارے وہ تو چُپ چاپ کھڑا ہو جاتا ہے۔لیکن جو مار کھائے، وہ روتا بھی ہے اور گالیاں بھی دیتا جاتا ہے۔تو ان غیر احمدیوں کی ایسی حرکات کو ہم کچھ نہیں سمجھتے۔بہرحال ان دونوں ایام التبلیغ سے ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ دنیا میں شریف انسانوں کی کمی نہیں۔پہلے یوم التبلیغ پر یہ معلوم ہوا تھا کہ مسلمانوں میں شرفاء کی کمی نہیں۔اور دوسرے سے یہ ظاہر ہو گیا کہ ہندوؤں میں ذاتی شرافت رکھنے والے لوگ مسلمانوں سے بھی زیادہ ہیں۔مسلمان مذہب کے لحاظ سے ان سے زیادہ پُر شوق ہیں۔مگر چونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی قوم گر رہی ہوتی ہے تو اس کے اخلاق بھی گر جاتے ہیں۔اس لئے ذاتی شرافت رکھنے والے ہندوؤں میں بہت زیادہ معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ہندو قوم اب اُٹھ رہی ہے۔ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ اگر ہماری تبلیغی مساعی جاری رہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الهام اللهِ فِى حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ اپنے مادی رنگ میں بھی بہت جلد پورا ہو جائے گا۔یعنی ہر مذہب کے لوگ سلسلہ میں داخل ہو جائیں گے۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اس کیلئے صرف تبلیغ کی ضرورت نہیں۔اس کیلئے صرف ایک دن کی تبلیغ کافی نہیں بلکہ مستقل تبلیغ اور ساتھ ہی دعاؤں کی ضرورت ہے۔دل انسانی تدبیروں سے فتح نہیں ہو سکتے جس کیلئے اللہ تعالیٰ چاہے اسی کیلئے فتح ہو سکتے ہیں۔اور اس کے رستہ میں پھر کوئی روک نہیں ٹھر سکتی۔لیکن جس سے اللہ تعالیٰ دلوں کو پھیر دے، اس کے اخلاق بھی سب بیچ ہو جاتے ہیں۔بعض اشخاص اچھے اخلاق رکھتے ہیں مگر لوگ پھر بھی ان سے بیزار ہی ہوتے ہیں۔اور بعض سخت مزاج ہوتے ہیں مگر لوگ ان پر فریفتہ ہوتے ہیں۔بعض لوگ راستباز ہوتے ہیں مگر لوگوں میں ان کا اعتبار نہیں ہوتا۔اور بعض جھوٹ بھی بول لیتے ہیں مگر لوگوں کو ان پر اعتماد ہوتا ہے۔اور ان کا جھوٹ ظاہر ہو جانے پر بھی کہہ دیتے ہیں کہ غلطی ہو ہی جاتی ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں ایک راستباز کی کچی بات کو بھی بناوٹ اور فریب کہہ دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص بہت نمازیں پڑھا کرتا تھا۔مقصد اس کا یہ تھا کہ متقی مشہور ہو جائے اور لوگ اس کی عزت کریں۔مگر اللہ تعالیٰ کو چونکہ اسے ہدایت کا رستہ دکھانا اور اس سے خاص سلوک کرنا تھا اس لئے اس کی اس قدر عبادتوں کے باوجود لوگ اسے منافق اور ریا کار ہی کہتے۔دس بارہ سال تک وہ کوشش کرتا رہا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ایک دن وہ