خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 40

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء چلاؤ اور اللہ تعالی کے حضور زاری کرو، دعائیں کرو کہ وہ تمہاری باتوں میں اثر ڈالے۔اور دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی فوج خود بخود لوگوں کے دلوں کو تمہاری طرف پھیر دے گی۔پس تبلیغ ہی تمہاری فوج ہے اور تبلیغ ہی تمہارے سپاہی۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ تمہاری تلواریں کام نہیں کرتی بلکہ ہمارے فرشتے کام کرتے ہیں۔غرض روحانی سلسلوں ) میں نظر آنے والی فوجیں کام نہیں کرتیں بلکہ نہ نظر آنے والی فوجیں کام کیا کرتی ہیں۔اگر تم سارے اکٹھے بھی ہو جاؤ تو بھی تم کتنے ہو، ایک مٹھی بھر ہی تو ہو۔تم اللہ تعالیٰ کے حضور زاری کرو اس سے دعائیں اور التجائیں کرو اور مدد اور استعانت چاہو۔دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہمت اور حوصلہ دے۔پھر دیکھو گے کہ کس طرح فرشتے اُترتے اور دوسروں کے دلوں تمہاری باتیں اثر کرنا شروع کردیتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی اس تائید پر تم جتنا چاہو فخر کرنا۔ایک امیر کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ رات کو گانا بجانا جاری رکھتا جس سے ہمسایوں کو تکلیف ہوئی۔محلہ کے لوگوں نے ایک بزرگ کے پاس جو اسی محلہ میں رہتے تھے ، شکایت کی کہ اس وہ سے نیند اور اخلاق خراب ہوتے ہیں۔انہوں نے امیر کو سمجھایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔چونکہ بادشاہ کا مصاحب تھا اس لئے اس نے بادشاہ سے شکایت کردی۔بادشاہ نے اس بزرگ کو بلوایا اور کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے واقعہ سنایا اور کہا کہ یہ رُک جائیں تو اچھا ہے ورنہ ان کیلئے بہتر نہیں ہو گا۔بادشاہ نے کہا کس طرح اچھا نہیں ہو گا۔اس کا کون کچھ بگاڑ سکتا ہے؟ بزرگ نے کہا یوں تو میں نہیں کر سکتا مگر ایک چیز ہے جس سے میں مقابلہ کروں گا اور وہ راتوں کے تیر ہیں۔بادشاہ سلامت! بیشک آپ کے پاس فوجیں ہیں، بندوقیں ہیں مگر آپ کے پاس راتوں کے تیر نہیں۔ان کی اس دلیری کا اتنا اثر ہوا کہ بادشاہ نے اس امیر کو منع کردیا اور امیر نے معافی مانگی۔تو راتوں کے تیر تمہیں ملے ہوئے ہیں۔جاؤ اور ان سے دشمنوں کا مقابلہ کرو۔قرآن تمہیں ملا ہوا ہے۔جاؤ اور اس سے دشمنوں کا مقابلہ کرو۔حدیثیں تمہیں ملی ہوئی ہیں۔جاؤ اور ان سے دشمنوں کا مقابلہ کرو۔یہی تمہاری تلواریں ہیں، یہی تو ہیں ہیں اور یہی بندوقیں ہیں۔کونسا مسئلہ ہے جس میں ہم دشمن کو شکست نہیں دے سکتے۔ہم ہر مسئلہ میں اسے نیچا دکھاتے ہیں۔مگر وہ دھوکا کرتا ہے، فریب کرتا ہے، ملمع سازی سے کام لیتا ہے۔کوئی دنیا کا بڑے سے بڑا پروفیسر یا سائنسدان کسی مسئلہ میں ایک بچے احمدی کو شکست نہیں دے سکتا۔اور آج تک ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا جس میں دلائل کی رو سے کسی احمدی نے