خطبات محمود (جلد 14) — Page 40
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے کہ وہ دیکھے اور کان کا کام ہے کہ وہ سنے ۔ جو آنکھ دیکھنے سے اور جو کان سننے سے انکار کر دے گا یا جو ناک سونگھنے سے انکار کرے گی ، وہ ضائع ہو جائے گی۔ کیونکہ جس غرض کیلئے کوئی چیز پیدا کی گئی ہو اگر وہ اسے پورا نہ کرے تو اسے رکھا نہیں جاتا۔ پس شدائد کو برداشت کرتے ہوئے صبر سے کام لو۔ اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء کیا ہے۔ اس وقت خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے صبر کی آزمائش کرے۔ محمدصلی السلام کے صحابہ اگر مکہ میں صبر سے کام نہ لیتے تو وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے راندے جاتے ۔ اور اگر محمد صلی ای ایم کے صحابہ مدینہ میں تلوار نہ اُٹھاتے تو بھی خدا کی درگاہ سے راندے جاتے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی منشاء کو سمجھا اور کامیاب ہوئے ۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کا منشاء دیکھو۔ تمہاری تلوار تمہاری بندوق، تمہاری توپ اور تمہارا ہتھیار اس وقت صرف تبلیغ ہے۔ تلواریں اور تو ہیں لوگ خود بناتے ہیں مگر جو چیز تم کو دی گئی ہے، وہ خدا نے اپنے ہاتھ سے تمہارے لئے بنائی ہے۔ اور کون کہہ سکتا ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی خدا کی بنائی ہوئی تلوار ایک سی ہوتی ہے۔ پس بز دل مت بنو، غیور بنو۔ مگر جو خدا نے تمہارے لئے شاہراہ مقرر کی ہے، اس کے مطابق کام کرو تم نکل جاؤ اس کلام کو لے کر جو خدا کی طرف سے نازل ہوا۔ تم نکل جاؤ اس تعلیم کو لے کر جو مسیح موعود کی معرفت تمہیں ملی ۔ دشمن ٹھٹھا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ایک مجنون آدمی تھا۔ مگر تم جانتے ہو کہ دنیا کے تمام نور اس کے کلام سے نکل کر پھیل رہے ہیں ۔ تم جانتے ہو کہ خدا نے اُنہیں مردود قرار دے دیا جو اُس کے دامن سے وابستہ نہیں ۔ تم جانتے ہو کہ اس کی تعلیم دلوں میں تقویت دینے والی اور خدا سے ملا دینے والی ہے۔ تم جانتے ہو کہ وہ خدا کا عشق پیدا کرنے والی ہے۔ تم جانتے ہو کہ وہ محمد صلی لا الہ تم سے محبت پیدا کرنے والی ہے۔ پس اس تلوار کو تھا مو اور دنیا میں دیوانہ وار نکل جاؤ ۔ پھر اگر دنیا کی تلواریں بھی تم پر پڑیں اور وہ تمہاری گردنیں اڑا دیں تو تمہیں کچھ پرواہ نہیں ہونی چاہئے ۔ کیونکہ تم ابدی زندگی پاؤ گے اور خدا کی گود میں چلے جاؤ گے۔ کون موت سے ڈرتا ہے؟ وہی جسے خیال ہو کہ موت کے بعد اس سے باز پرس ہو گی ۔ مگر جسے یقین ہو کہ موت میں زندگی کا راز مضمر ہے، وہ کب موت سے خوف کھا سکتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہی ایک صحابی کا واقعہ ہے ۔ وہ ایک دفعہ میدان جنگ سے بھاگ نکلے ۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کیونکہ وہ بہت بہادر تھے۔ اور بعضوں نے ان سے پوچھا کہ آپ 38