خطبات محمود (جلد 14) — Page 28
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کیونکہ وہ کامیابی کا اصل طریق اختیار نہیں کرتے۔ جو نعمتیں پیشگوئیوں کے نتیجہ میں ملتی ہیں ان کیلئے بھی قربانی ضروری ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی الا الیتیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کیلئے قربانی نہ کرنی پڑی ہو۔ مثلا فتح مکہ ہی ہے۔ اس کیلئے خود رسول کریم سی ایم اور آپ کے صحابہ کو پہلے اپنا ا وطن ترک کرنا پڑا۔ پھر کئی جانیں ضائع ہوئیں، کئی مسلمانوں کے اعضاء ضائع ہو گئے۔ گویا جانیں دے کر، اعضاء دے کر ، وطن اور جائیدادیں ترک کرنے کے بعد یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں ، ان کیلئے بھی قربانیاں کرنی پڑیں گی ۔ وہ بھی اسی خدا کی طرف سے ہیں جس نے محمد صلی لا الہ تم کو وحی کی تھی۔ اور جب محمد صلی السلام کی پیشگوئیاں بغیر قربانی کے پوری نہ ہوئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کس طرح پوری ہو سکتی ہیں۔ ان کیلئے بھی یقینا قربانی ضروری ہوگی اور اس قربانی میں ہر شخص کو کچھ نہ کچھ حصہ لینا پڑے گا۔ خصوصا زمیندار طبقہ کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں۔ اس طبقہ میں احمدیت پھیلتی تو جاتی ہے مگر جس قسم کی زندگی بسر کرنے کے قابل احمدیت بنانا چاہتی ہے وہ ابھی ان کے اندر پیدا نہیں ہوئی۔ بہت ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو مان لیا یا نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لئے، تو یہ کافی ہے۔ حالانکہ نماز روزے ایک اور غرض کیلئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا غرض ہے کہ کوئی شخص ہاتھ ، منہ، پاؤں دھو کر اس کے آگے جھکے یا سجدہ کرے یا بیٹھ جائے۔ یہ چیزیں دراصل انسان کے دماغ کو کھولنے اور اس کے اندر حس پیدا کرنے کیلئے ہیں۔ اور ان سے اسے یہ بتانا ۔ مقصود ہے کہ اسے کس وقت صبر کرنا چاہئیے ، کس موقع پر دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہئیے ، دوسروں کیلئے قربانی کرنی چاہئیے ۔ انسانی پیدائش کی دو غرضیں ہیں۔ ایک یہ کہ بندوں میں باہم نیکی اور حُسنِ سلوک پیدا ہو اور انسان دنیا میں خدا تعالیٰ کا نائب ہو کر رہے۔ یہ غرض تبھی پوری ہو سکتی ہے جب انسان دماغ سے سوچے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے اندر کیا طاقتیں رکھی ہیں لیکن خالی نماز سے یہ مقصد حاصل نہیں ۔ ہو سکتا۔ جس شخص کے اندر تکلیف کے وقت دوسروں کی مدد کرنے ، مصیبت زدہ سے ہمدردی اور دوسروں کیلئے کامل شفقت نہیں، اس کے صرف اٹھنے بیٹھنے سے اللہ تعالیٰ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ دوسرا مقصد انسان کی پیدائش کا یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے مل جائے اور صرف نماز 26