خطبات محمود (جلد 14) — Page 29
خطبات محمود ۲۹ سال ۱۹۳۳ء مترتب نہیں ہو سکتے، اصل چیز نیت ہے۔کسی شخص کے بدن پر بچھو چڑھ گیا ہو اور دوسرا زور کے ساتھ مکا مار کر بچھو کو مارڈالتا ہے۔مگر ایک اور اسے یونہی ممکا مار دیتا ہے تو دونوں میں کتنا فرق ہے۔ایک کے ساتھ تو وہ لڑ پڑے گا مگر دوسرے کا شکریہ ادا کرے گا کیونکہ بچھو کو مارنے والے نے اسے فائدہ پہنچایا۔اگر مکا مارنے کی بجائے اسے متوجہ کرتا تو ممکن تھا کہ قبل اس کے کہ بچھو تک اس کا ہاتھ پہنچتا، وہ ڈنگ مار دیتا۔اُس نے اپنی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسرے کو ضرر سے بچایا۔مگر ایک اور نے اسے تکلیف دینے کیلئے مکا مارا تو عمل کی ظاہری شکل نہیں دیکھنی چاہیئے۔کئی لوگوں کی نماز بھی ایسی ہی بُری ہو سکتی ہے جیسے چوری - قرآن کریم میں آیا ہے وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ہے۔تو ظاہری اعمال کے ساتھ نیت کی درستی بھی ضروری ہے۔اور اصل نیت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو " اخلاق کی درستی ہو جائے۔اور اگر ساتھ کے ساتھ یہ چیزیں حاصل نہ ہوں تو انسان سمجھ لے کہ اس کی نیت میں خرابی ہے اور اسن نے نماز صحیح طریق پر ادا نہیں کی۔زمیندار جب گھر پے سے گھاس کاتا ہے یا درانتی کے ساتھ کوئی فصل کاتا ہے تو وہ ساتھ کے ساتھ کٹ کر مٹھی میں آتی جاتی ہے۔اگر ایک بار در انتی چلانے کے ساتھ اس کی مٹھی میں کچھ نہ آئے تو معاً اسے توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔اور اگر کسی اور طرف متوجہ ہو یا کسی سے باتیں کر رہا ہو تو فوراً دیکھ کر ہاتھ کو ٹھیک کرتا اور درانتی کو صحیح طور پر چلاتا ہے۔لیکن بہت سے ہیں کہ نمازیں پڑھتے رہتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلتا مگر وہ کوئی خیال نہیں کرتے۔حالانکہ اگر ان کی نمازیں صحیح ہو تیں تو کچھ تو نتیجہ نکلنا چاہیئے تھا۔کوئی وجہ نہیں کہ آدمی صحیح طور پر نماز پڑھے اور اس کا خدا کے ساتھ تعلق نہ ہو۔وہ روزے رکھے مگر وحشی کا وحشی ہی رہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اس کے دل میں پیدا نہ ہو۔اگر وہ ٹھیک طور پر نماز پڑھتا روزے رکھتا تو نتیجہ بھی ضرور ظاہر ہوتا۔اس کا محروم رہنا دو صورتوں سے خالی نہیں۔یا تو نماز سے فائدہ حاصل ہی نہیں ہو سکتا اور یا اس نے اس کا ٹھیک طور پر استعمال نہیں کیا۔پس نماز روزہ اور دیگر عبادات میں ہمیشہ نیت درست رکھنی چاہیئے۔تا صحیح نتیجہ حاصل ہو اور اگر حاصل نہ ہو تو چاہیے کہ انسان فکر کرے۔کیونکہ وہ بات جو قرآن کریم نے بیان کی ہے غلط نہیں ہو سکتی۔ضرور نقص اس کی اپنی طرف سے ہے۔اگر ایک ماہر مالی کسی کو اپنا آزمایا ہوا اور تجربہ شدہ بیج دے اور وہ نہ چھوٹے تو اس کے یہی معنے ہوں رپر