خطبات محمود (جلد 14) — Page 311
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء زیادہ مگر ہمارا زور یہی ہونا چاہیے کہ ہر سال زیادہ سے زیادہ ترقی ہو۔اور اگر کسی وجہ سے اس سال زیادہ لوگوں کو ہم شامل نہ کر سکے تو گو اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت سمجھتے ہوئے ہم صبر کریں گے لیکن ندامت ضرور ہوگی۔پس آج سے ہی اس کیلئے تیاری شروع کردیں اور ان مسائل سے ان کو آگاہ بھی کرنے لگ جائیں۔تعلیم یافتہ لوگوں کا لانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ان کے چھٹی کے دن ہوتے ہیں۔اور ان کے اندر تعصب بھی اس قدر نہیں ہوتا۔ان کے طبقہ کے معززین انہیں تبلیغ کر سکتے ہیں۔اور اس کیلئے ان کو جلسہ یا مشاورت کے موقع پر ساتھ لانا بہت مفید ہو سکتا ہے۔مگر اس طرف ہمارے دوستوں کی توجہ بہت کم ہے۔بڑے لوگ اس کام میں بہت ست ہیں۔چھوٹے طبقہ کے لوگ تو اپنے ساتھ دوسروں کو لے آتے ہیں۔مگر بڑے افسر یا تاجر یا زمیندار اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ہماری جماعت میں کم از کم سات آٹھ سو آدمی ایسے ہیں جو ملک میں معزز سمجھے جاتے ہیں۔اور اگر وہ اپنے طبقہ کے لوگوں کو ساتھ لے آئیں تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔پس یہ بھی ایک خاص کام ہے جس کی طرف میں جماعت کے بڑے لوگوں کو متوجہ کرتا ہوں۔اللہ تعالی کے نزدیک تو بڑے چھوٹے کا کوئی امتیاز نہیں جو متقی ہو وہ معزز ہے۔لیکن بہر حال یہ دنیا میں ایک امتیاز قائم ہے۔اور اگر کوئی شیطان کا بچہ اپنا نام عبدالرحمن رکھ لے تو بہر حال ہمیں اس کو اسی نام سے پکارنا پڑے گا۔پس جو لوگ بڑے سمجھے جاتے ہیں انہیں ساتھ لاؤ تا اللہ تعالیٰ ملک کے صنادید کے قلوب کی کھڑکیاں کھولے اور انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی متوجہ ہوں۔اگر کوئی نواب احمدی ہو جائے تو بے شک اس کی تمام رعایا ایمان نہیں لے آئے گی۔لیکن سو دو سو تو اس کی وجہ سے ضرور احمدی ہو جائیں گے۔پس ہماری جماعت کے مجسٹریٹ، تحصیل دار بعض وہ جو ڈپٹی کمشنری کے منصب پر ہیں، اگر وہ اپنے طبقہ کے لوگوں کو ساتھ لائیں تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔بڑے تاجر بڑے زمیندار ڈاکٹر وکلاء بیرسٹر سب اپنے اپنے دائرہ کے لوگوں کو لائیں تو سینکڑوں لوگ آسکتے ہیں۔اور اگر وہ آدھا دن بھی جلسے میں بیٹھیں تو اچھا اثر ہو سکتا ہے۔چند دوست ایسا کرتے ہیں۔مثلاً چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ضرور اپنے ساتھ لاتے ہیں اور بھی بعض دوست ہیں۔مگر ان کی تعداد محدود ہے۔ہاں غرباء بہت لاتے ہیں۔امراء تو بعض اوقات خود بھی سستی کر دیتے ہیں۔اور یہی چیز ہے جو انہیں غرباء سے پیچھے رکھتی ہے۔اور غرباء اپنے آپ کو آگے بڑھالیتے ہیں رسول کریم ال نے غرباء کو روحانی ترقی کے بعض طریق بتائے۔