خطبات محمود (جلد 14) — Page 312
خطبات محمود ۳۱۲ سال ۱۹۳۳۳ء امراء نے بھی ان پر عمل شروع کر دیا۔غریب صحابہ نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ وہ بھی ایسا کرنے لگے ہیں۔آپ نے فرمایا۔میں خدا کے فضل کو کیسے روک سکتا ہوں اے۔پس اگر امیر چاہیں تو وہ بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔مگر وہ خود اپنے لئے رستے بند کر دیتے ہیں۔اگر وہ ہمت کریں تو ہر سال جلسہ تبلیغ کے دائرہ کو وسیع کر سکتا ہے۔پس ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے بھائیوں سے سبق حاصل کریں۔ان کی تعداد سات آٹھ سو ہے اگر وہ ایک ایک دوست کو بھی ساتھ لائیں۔اور ان میں سے سو دو سو ہی بیعت کر لے یا ان کا بغض دور ہو جائے تو تبلیغ کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔پس خطبہ کا یہ حصہ گو بہت مختصر ہے مگر میں نے تمام ہدایتیں دے دی ہیں۔اور اصل چیز تو یہی ہے کہ یہاں کے اور باہر کے دوستوں کو چاہیے کہ اس بات کے لئے دعاؤں سے بہت کام لیں کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔بہت سے لوگ جنت لینے آتے ہیں مگر دال پر لڑ کر چلے جاتے ہیں۔اور پھر روزہ دار تو اور بھی چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔اس لئے نفس کو زیادہ دبانا پڑے گا۔باہر کے آدمیوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ بھوکا شیر زیادہ لڑتا ہے۔اس لئے اگر روزہ دار سے کوئی نامناسب حرکت بھی ہو تو در گذر کریں۔گو اگر انسان اخلاص سے کام لے تو اللہ تعالی ایسی توفیق عطا کر دیتا ہے کہ بھوکا آدمی بھی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی طرح کام کر سکتا ہے۔م الفضل ۷ دسمبر ۱۹۳۳ء) نوشیرواں: (انوشرواں) ایران کے ساسانی شہنشاہ خسرو اول کی عربی شکل۔اپنے باپ قباد کی وفات پر ۵۳۱ء میں تخت نشین ہوا اور ساسانی سلطنت کی حدود کو بحیرہ ابیض اور بحیرہ اسود کے ساحلوں تک پہنچادیا اور ۴۸ سال حکومت کے بعد ۵۷۹ء میں وفات پائی (اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد ۳ صفحه ۴۹۸ دانش گاہ پنجاب لاہور ۱۹۶۷ء) ام ہم بخاری کكتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام ويتقى به التحريم: البقرة: ۱۸۷ سے تذکرہ اولیائے کرام ادبستان صفحہ ۶۹