خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 302

خطبات محمود ۳۲ جوش کی بجائے صبر اور دُعاؤں سے کام لو جلسہ سالانہ پر دوسروں کو بھی ساتھ لاؤ (فرموده یکم دسمبر ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ آج میرا ارادہ تو یہی تھا کہ جلسہ سالانہ کے متعلق دوستوں کو توجہ دلاؤں۔ اور انہیں تحریک کروں کہ اس کیلئے تیاری شروع کر دیں۔ لیکن رات کو مجھے ایک ایسی اطلاع ملی جس کی وجہ سے میں نے ضروری سمجھا کہ اگر جلسہ کیلئے خطبہ کو ملتوی نہ کروں تو کم سے کم اس معاملہ کو بھی اس میں شامل کرلوں ۔ کئی لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول پر بھی کیا کرتے تھے اور مجھ پر بھی کہ بعض اوقات بغیر تحقیق کے المسيح بات ہے۔ اور بغیر اس کہ دوسرے سنا اس کے اپنے بات بیان کر دی جاتی ہے۔ اور بغیر اس کے کہ دوسرے فریق کے بیانات کو سنا جائے اس کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کر دیئے جاتے ہیں۔ اگر تو بات اسی طرح ہو جس طرح معترض کہتے ہیں تو بیشک یہ قابل المسيى اعتراض امر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ نہ تو حضرت خلیفہ مسیح الاول کا منشاء سمجھتے تھے، اور نہ ہی میرے طریق کو سمجھتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے امور جن کا تعلق قومی تربیت یا جماعتی عزت کے ساتھ بہت ہی گہرا ہوتا ہے ۔ ان کے متعلق بغیر اس کے کہ انہیں صحیح تسلیم کیا جائے اور بغیر اس کے کہ ان کے متعلق قضائی فیصلہ صادر کیا جائے ضروری ہوتا ہے کہ اس موقع سے 300