خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 298

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء قریب ہی نہیں اور جس کے اور ہمارے درمیان ایک بہت بڑی دیوار حائل ہے اسے پکارنا کیا اور اس سے جواب کی امید رکھنا کیا ؟ پس ایک تو جلوسوں میں ایسا رنگ مت اختیار کرو جو تھیٹر والا ہو یا جس میں مشرکانہ طریق پایا جاتا ہو۔ ہمیں اگر رسول کریم صلی یہ محبوب ہیں تو اسی لئے کہ آپ نے دنیا میں توحید قائم کی۔ ورنہ ان میں اور دوسرے انسانوں میں بظاہر کیا فرق ہے۔ آپ نے خدا کی بڑائی قائم کی پس وہ خود بھی بڑے ہو گئے۔ اور دراصل جتنا جتنا کوئی شخص خدا کی بڑائی ظاہر کرتا ہے اسی قدر وہ خود بھی بڑا بنتا جاتا ہے۔ رسول کریم صلی السلام نے چونکہ اپنی ذات کو مٹا دیا اور چونکہ آپ نے اپنے نفس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی انیت کو قائم کیا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی آپ کو لازوال بزرگی عطا کی ۔ کیونکہ جب انسانی وجودمٹ جائے تب خدا ہی خدا نظر آیا کرتا ہے۔ پس صحیح طریق اختیار کرو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی محبت تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے سب چیزوں کی جڑ تقوی اللہ ہے باقی اللہ تعالیٰ کے نبی ، رسول ، خلفاء، مجدد، صدیق صلحاء اور اولیاء سب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے ذرائع ہیں۔ ہمارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ بیوقوفی ہوگی اگر چھوٹے کی محبت کیلئے بڑے کی عظمت کو قربان کر دیا جائے ۔ پس جلوس میں تصنع نہیں ہونا چاہیے ، سادگی اور اخلاص ہونا چاہئیے ۔ مجھے اس وقت یاد نہیں مگر کئی شعر ایسے پڑھے جاتے ہیں۔ جن میں شرک کی بو ہوتی ہے ان کا پڑھنا ہرگز درست نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام پڑھو۔ درثمین وغیرہ میں سے کچھ حصوں کا انتخاب کرلو۔ اس میں ضرور مشکلات بھی پیدا ہوں گی ۔ مثلا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں لڑکوں کو یاد کرانی پڑیں گی لیکن اس کے مقابلہ میں جو فائدہ ہے وہ بہت بڑا ہے۔ اس سے نہ صرف ظاہری لحاظ سے لوگوں پر عمدہ اثر پڑے گا اور وہ رسول کریم صلی السلام کے کمالات سے واقف ہوں گے بلکہ باطنی طور پر بھی فائدہ ہوگا۔ اور لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوگا کہ ہم بھی ایسے اشعار لکھیں۔ جن سے رسول کریم علیہ السلام کے حالات لوگوں کے سامنے آئیں۔ ایک نعت کہنے کا پرانا طریق تھا۔ اور وہ یہ کہ اشعار میں ذکر کیا جا تا رسول کریم صلی الله السلام کا ناک ایسا خوبصورت تھا ، کان ایسے تھے، رنگ ایسا تھا ، قد ایسا تھا۔ اس سے غیر مسلموں میں مسلمانوں کو 296