خطبات محمود (جلد 14) — Page 298
خطبات محمود ٢٩٨ سال ۱۹۳۳ء فضائل بیان کرنے کی طرف توجہ نہ کریں تو کس قدر افسوسناک بات ہوگی۔رسول کریمی کے متعلق اگر یہ بیان کیا جائے کہ آپ کا رنگ کیسا تھا۔تو چونکہ رنگ نہیں بدلتا اس لئے اتنا جاننا ہی کافی ہوتا ہے کہ آپ کا رنگ کالا تھا یا گورا - لیکن معارف چونکہ زمانے کے تغیر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔اور ان کے متعلق محنت کرنی پڑتی ہے، اس لئے لوگ اس طرف آنے سے جی چراتے ہیں۔یا مثلا یہ امر کہ رسول کریم ال کے بال کندھوں سے اونچے تھے یا نیچے۔ایک معمولی بات ہے ہر شخص اسے ایک دفعہ بھی سن لے تو یاد رکھ سکتا ہے۔لیکن یہ۔آپ نے کس کس رنگ میں قربانیاں کیں، بنی نوع انسان سے آپ کے تعلقات کس کے تھے۔پھر بنی نوع انسان کے علاوہ ہر فرد سے آپ کا علیحدہ علیحدہ سلوک تھا، زید کا بھی آپ سے تعلق تھا۔اور اگر ہم غور کریں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ رسول کریم اتے اس کیلئے بھی کچھ قربانیاں کی ہیں۔اسی طرح ہر صحابی کے متعلق غور کیا جاسکتا ہے اور نئی نئی باتیں نکالی جاسکتی ہیں۔پھر اگر ہم دیکھیں کہ رسول کریم نے کس طرح انسانی فطرت کی گہرائیوں کا مطالعہ کرکے دعائیں سکھائیں ہیں۔اور اس مضمون کے ماتحت قرآن مجید پر غور کیا جائے تو سینکڑوں مضامین سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔غرض اس طریق کے ماتحت کام کرو اور جب شعر پڑھو تو اچھے شعر پڑھو۔اسی طرح اگر خود اشعار بناؤ تو اچھے اشعار بناؤ۔پرانے لوگوں میں سے بھی بعض نے رسول کریم ای کی مدح میں نہایت اچھے اشعار کے ہیں۔اگر ہم ان سے بھی فائدہ اٹھالیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔میں نے اب کی دفعہ سیرت النبی کے جلسہ کی آمد سے دو دن پہلے یہ بات سنادی ہے۔اب بھی اگر جلوس میں اس۔کے اشعار پڑھے گئے یا تختوں پر مجھے لکھے نظر آگئے تو میں جھنڈے وہیں رکھوالوں گا۔اور ایسے لوگوں کو جلوس سے الگ کرادوں گا کیونکہ یہ رسول کریم کی ہتک کرنے والی بات ہے۔آپ کا اصل مقصد توحید کا قیام تھا۔اس پر جتنا جی چاہے زور دو- مگر توحید کے صرف یہ معنے نہیں ہوتے کہ اللہ ایک ہے۔اگر پتھر ایک ہو تو کیا یہ بڑی خوبی کی بات سمجھی جاسکتی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ دنیا کے تمام حسن اس ایک خدا کے سامنے بیچ ہیں۔جب اس کے سامنے اچھی سے اچھی چیز بھی جاتی ہے تو ماند پڑ جاتی ہے اور اکیلا خدا ہی نظر آتا ہے۔پس ایک ہونے کا یہ مفہوم ہے کہ وہ تمام صفاتِ حسنہ میں منفرد ہے۔اور ساری چیزیں اس کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔یہی وہ مفہوم ہے جسے دنیا کے ذہن نشین کرنے کیلئے انبیاء آتے ہیں۔