خطبات محمود (جلد 14) — Page 297
خطبات محمود ۲۹۷ سال ۱۹۳۳ء سوائے ندامت کے اور کچھ حاصل نہ ہو سکتا تھا۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ کہیں باہر گیا۔تو ی ایک ہندو مجھ سے ملنے آیا اس نے مجھے اس قدر شرمندہ کیا کہ میں پانی پانی ہو گیا۔اور گو وہ غیر احمدیوں کا طریق عمل تھا مگر مسلمان ہونے کے لحاظ سے مجھے سخت ندامت ہوئی۔وہ کہنے لگا مجھے ایک ایسے بندے کی تلاش تھی جو مجھے خدا تک پہنچائے۔اس غرض کیلئے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے پاس گیا۔اسی دوران میں جب رسول کریم ﷺ کے حالات معلوم کرنے کیلئے میں مجالس مولود میں پہنچا تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔اس کے بعد اس نے وہاں کا ایسا گندہ نقشہ کھینچا کہ میں شرم کے مارے پانی پانی ہو گیا۔کہنے لگا مجھے وہاں بتایا جانے لگا کہ آپ کی زلفیں ایسی تھیں، آنکھیں ایسی خوبصورت تھیں، قد اس قسم کا تھا، رنگ اس طرح کا تھا۔بھلا مجھے ان باتوں سے کیا۔اس نے ان باتوں کو اس طرح بنا بنا کر پیش کیا کہ میری آنکھیں اس کے سامنے جھک گئیں۔اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ لوگوں کے دل میں رسول کریم ﷺ کی اصل محبت نہیں رہی۔اگر وہ آپ کے حالات پڑھتے قرآن مجید پر غور کرتے تو وہ ان باتوں کی طرف کبھی نہ جاتے۔مگر چونکہ حالات معلوم کرنے اور قرآن مجید پر غور کرنے میں محنت صرف کرنی پڑتی ہے۔مگر یہ معلوم کرنا اور یاد رکھنا بالکل آسان ہے۔کہ آپ کا رنگ سفید تھا داڑھی گھنی تھی۔اس لئے انہی کو بیان کرنا شروع کردیا۔یا رسول کریم الک کے متعلق اس قسم کی من گھڑت کہانیاں سنانی شروع کردیں۔کہ ایک گوہ آئی اور اس نے آپ کو سجدہ کیا یا درخت اور پتھر آپ کے سامنے سربسجود ہو گئے۔ایسی کہانیاں چونکہ بچوں تک کو بھی جلد یاد ہو جاتی ہیں۔اس لئے لوگوں نے رسول کریم ﷺ کے فضائل اسی رنگ میں بیان کرنے شروع کر دئے۔چنانچہ دیکھ لو کسی بچے کو قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر سمجھاؤ۔وہ سن لے گا لیکن جب اس سے پوچھا جائے کہ کیا سنا تو کہے گا یاد نہیں۔لیکن سے کوئی کہانی سنادو اور تیسرے دن سننا چاہو تو ایک ایک حرف سنادے گا۔چونکہ رسول کریم کی قربانیاں آپ کے اخلاق اور آپ کی پاکیزہ زندگی کے واقعات معلوم کرنے کیلئے کی ضرورت تھی اور کہانیاں بیان کرنا اور یاد رکھنا آسان تھا اس لئے لوگوں نے کہانیاں اور قصے بیان کرنے شروع کردئے۔پس یہ لوگوں کی نستی اور کو تاہی کا ثبوت ہے، رسول کریم کی محبت نہیں۔اگر ہم بھی رسول کریم ﷺ کے متعلق اسی قسم کی باتوں میں الجھ جائیں اور قرآن مجید سے معارف اور نئے نئے علوم نکالنے اور رسول کریم ﷺ کے حقیقی ال۔