خطبات محمود (جلد 14) — Page 278
خطبات محمود نقصان وہ منافق پہنچاتا ہے جو ایمان تو لے آتا ہے مگر پھر گرتا چلا جاتا ہے۔ سال ۱۹۳۳ء پس منافق ایک نہایت ہی بد بودار چیز ہے اتنی بد بودار کہ اللہ تعالی دوزخیوں کو بھی اس کی تکلیف سے بچانے کیلئے اُسے سب سے نیچے طبقہ میں رکھا ہے۔ لیکن مؤمنوں کی ترقی میں وہ روک نہیں ہو سکتے ۔ ترقی میں روک عملی منافق ہوتا ہے۔ جس کے دل میں تو ایمان ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کے ساتھ چلوں اور دوڑوں مگر گر پڑتا ہے اور روک بن جاتا ہے۔ جیسے بچے جب والدین کے ساتھ چلتے ہیں تو گر پڑتے ہیں اور انہیں اُٹھانا پڑتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں تو ایمان ہے مگر دوڑ میں وہ ساتھ نہیں رہ سکتے ، یہ سزا جو میں نے تجویز کی ہے بہت بڑی سزا ہے۔ اور جب انہیں معلوم ہوگا کہ انہیں سلسلہ کی خدمت ، سے محروم کر دیا گیا ہے تو وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں گے ۔ رسول کریم صلی السلام نے ایک دفعہ بعض لوگوں کو یہ سزادی کہ ان سے کلام نہ کیا جائے۔ جنہیں یہ سزا دی گئی اُن میں سے ایک سے کا یہ حال تھا کہ اس دوران میں ایک بادشاہ نے اسے لکھا کہ میں نے سنا ہے تمہارے آقا محمد ( صلی لا الہ سلیم نے تمہارے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ تم ہمارے پاس چلے آؤ۔ وہ کہتے ہیں میں اُن دنوں اتنا دق تھا اتنادق تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ دنیا میں میرا کہیں ٹھکانہ نہیں۔ اسی دوران میں ایک دن میں اپنے چا زاد بھائی کے پاس گیا۔ وہ اس وقت باغ میں تھا۔ میرے اس سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ میں نے اس سے کہا باقی لوگ تو شاید میرا حال نہیں جانتے مگر اے بھائی! تو تو جانتا ہے کہ میں منافق نہیں ہوں ۔ اور مجھ سے جو غلطی ہوئی یہ صرف ایک غفلت تھی۔ وہ کہتے ہیں میرا خیال تھا کہ میرا بھائی مجھ سے اتفاق کرے گا۔ لیکن اُس نے میری طرف منہ ہیں تھا کہ بھی نہ کیا اور آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا ۔ خدا اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ کہتے ہیں اس جواب سے مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ میں نے یقین کر لیا میرے لئے دنیا میں اب کہیں سکھ اور آرام کی جگہ نہیں۔ ایسی حالت میں میں آ رہا تھا کہ خط ملا۔ ایسے نازک موقع پر کمزور تو الگ رہا اچھا سمجھدار آدمی بھی بعض اوقات پھسل جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے اس امر کی پرواہ نہ کی اور دل میں کہا یہ شیطان کی آخری آزمائش ہے انہوں نے سفیر سے خط لے لیا اور ایک بھٹی جل رہی تھی اس میں ڈال کر کہا یہ اس خط کا جواب ہے۔ ان لوگوں کیلئے رسول کریم صلی السلام سے کلام کرنا کتنی قیمتی چیز تھی۔ اس کا بھی وہ آپ ہی ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں میں رسول کریم صلی السلام کی مجلس میں جاتا اور آپ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا۔ پھر 276