خطبات محمود (جلد 14) — Page 255
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء دیکھو زمیندار جب زمین میں کوئی چیز بونے لگتا ہے تو پہلے اسے بیچ ڈالنے کیلئے تیار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک ہی دن میں سخت زمین پر پانی کا چھینٹا دے دینے سے وہ تیار نہیں ہوسکتی۔ پہلے زمین پر کہیں گھاس ہوگا، کہیں کسی اور چیز کی جڑیں ہوں گی۔ پھر وہ سخت ہوگی اگر یونہی بیچ پھینک کر چلا آئے تو ہر شخص اسے بیوقوف کہے گا ۔ اسی طرح تبلیغ کیلئے بھی ہماری طرف سے اگر پہلے سے تیاری نہ ہوگی تو وہ بیچ جو ہم پھینکیں گے وہ ضائع ہو جائے گا۔ پس اخلاص اور محبت سے لوگوں کے قلوب کو اپنی طرف مائل کرو تا جب تم تبلیغ کیلئے جاؤ تو ان کے دل احمدیت کے متعلق اچھے خیالات سے لبریز ہوں اور تمہاری باتوں کا ان پر اثر ہو۔ باقی اگر کوئی مخالف سختی کرتا ہے اور کوئی احمدی سختی کی وجہ سے بھاگ آتا ہے تو وہ بزدلی سے کام لیتا ہے۔ مومن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جب تک یہ سمجھتا ہے کہ ابھی پیغام نہیں پہنچا اپنے مقام سے نہیں ہٹتا اور کا جب دیکھتا ہے کہ پیغام پہنچ گیا تو چلا آتا ہے کیونکہ واپس تو آخر آنا ہی ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی السلام کا نمونہ یہی ہے آپ جب طائف تشریف لے گئے تو جتنی باتیں آپ سنا سکے سنا دیں۔ اور جب لوگوں نے کہا کہ ہم باتیں سنے کیلئے تیار ہیں تو آپ واپس تشریف لے آئے ۔ مگر واپسی کے وقت کفار نے آپ کے پیچھے بچے اور کتے لگا دیئے۔ بچے آپ پر پتھر پھینکتے اور کتے کاٹتے ۔ مگر باوجود اس کے رسول کریم صلی سیستم رستہ میں یہی دعا کرتے رہے کہ الہی ! ان پر رحم کر میری قوم نے مجھے پہچانا نہیں ۔ جو شخص بھی آپ کو اس حالت میں دیکھتا وہ خیال ہی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ بزدل ہیں بلکہ ہر شخص یہی کہتا کہ کیا کوہ وقار ہے۔ لیکن ایسی ہی صورت میں اگر کوئی شخص دوڑتا جائے پیچھے بچے اور کتے لگے ہوئے ہوں اور وہ شور ڈالتا جائے کہ مر گیا ، مر گیا، مر گیا، تو ہر شخص کہے گا کہ یہ بزدل ہے۔ پس دونوں حالتوں میں فرق ہے اور ہر شخص کی حالت بتا سکتی ہے کہ وہ بزدلی دکھا رہا ہے یا بہادری۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر ایسے مقام پر کھڑے رہنا چاہئے جہاں تشدد ہو۔ اگر چہ بعض جگہ کھڑا رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً طائف سے تو رسول کریم مائی نے اپنی واپس آ گئے مگر حنین کے موقع پر آپ نے کہا چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ کو اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر دشمن کی طرف بڑھے۔ گویا آپ نے دونوں نظارے دکھلا دیئے ۔ ایک جگہ کچھ بچے اور کتے آپ کے پیچھے ڈالے گئے اور آپ واپس آگئے ۔ کیونکہ آپ نے سمجھا کہ آپ جو پیغام پہچانا چاہتے تھے وہ پہنچا چکے۔ مگر دوسری جگہ جب کہ چار ہزار تیر انداز سامنے تھے اور صرف بارہ صحابہ آپ کے پاس رہ گئے تھے، آپ نڈر 253