خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 253

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے۔ حالانکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کا اتنا وقت مقرر ہے۔ اور اسی وقت میں انہیں تمام گفتگو کرنی چاہئے مگر وہ پہلے پیٹ بھر کر اور اور باتیں کرتے رہیں گے۔ اور جب وقت ختم ہوگا تو انہیں ایک بات اور یاد آ جائے گی۔ پھر جب وہ بات ختم ہو گی تو دوسری یاد آ جائے گی اور اس طرح باتوں میں سے باتیں نکالتے جائیں گے یہانتک کہ ان باتوں کا نمبر آٹھ دس تک پہنچ جائے گا۔ پس ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئیے کہ گفتگو سے دوسرے کے دل میں ملال پیدا نہ ہو۔ مگر یہ بھی یادر ہے کہ ملال دو قسم کا ہوتا ہے۔ بعض لوگ تو پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہاری باتیں نہیں سننا چاہتے۔ وہ شروع سے ہی توجہ نہیں کرتے۔ اور بعض لوگ توجہ تو کرتے ہیں مگر جب گفتگو کی طوالت دیکھتے ہیں تو بیزار ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھنا چاہئیے امر مد کہ جب بات ملال کی حد تک پہنچ جائے تو انسان خاموش ہو جائے ۔ ایک دن میں کوئی شخص مانا نہیں کرتا سوائے اس کے کہ کوئی شخص پہلے سے تیار ہو۔ اس لئے اس ایک دن میں جتھے بازی اور نمائش نہیں کرنی چاہئیے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ لوگ پہلے مسجدوں میں جائیں اور وہاں رو رو کر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینے حق قبول کرنے کیلئے کھول دے۔ انہیں باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اعلیٰ دلائل سمجھائے اور ہماری زبان اور ہما اور ہمارے ہر کام میں ایسی برکت ڈالے جس سے دوسرے سرے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ پس اکٹھے ہو کر مسجدوں میں دعائیں کرو مگر جب باہر نکل رہے ہو تو اُس وقت جتھے والی صورت نہ ہو۔ پھر تبلیغ میں اس امر کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ شخص جو صفائی سے کہہ دے کہ میں تمہاری باتیں سنا نہیں چاہتا اسے باتیں نہیں سنانی چاہئیں۔ رسول کریم صلی ا یتیم عکاظ کے میلہ میں جب تبلیغ کیلئے تشریف لے جاتے تو جہاں رسول جہاں لوگ اکٹھے ہوتے وہاں جا کر فرماتے میں کچھ باتیں سنانا چاہتا ہوں ۔ بعض کہتے ہم سننا چاہتے ہیں اور بعض کہہ دیتے کہ ہم نہیں سننا چاہتے۔ جو لوگ سننے سے انکار کرتے رسول کریم مالی آیتم و آتے ۔ اسی طرح حضرت مسیح ناصری نے بھی حواریوں کو نصیحت کی ہے کہ اگر کوئی تمہیں قبول نہ کرے اور تمہاری باتیں نہ سنے تو اس گھر یا اس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دوے لیکن بعض بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں تو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم باتیں سنیں مگر ظاہر یہی کرتے ہیں کہ ہم سننا نہیں چاہتے ۔ گویا ان کی مرضی ہوتی ہے کہ باتیں سنانے کیلئے اصرار کیا جائے اور یہ عقلمند کا کام ہوتا ہے کہ وہ معلوم کرے کہ کسی کا انکار بالکل 251