خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 249

۲۴۹ سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود استاد کو شاگردوں پر مالک کو مملوک پر اور والیوں کو اپنے اپنے حلقہ کے لوگوں پر ایک حد تک سختی کرنے کا حق حاصل ہے۔لیکن جہاں سختی کا کوئی حق نہیں راہ چلتا مسافر ہے، برابر کا دوست ہے، افسر ہے، کسی قوم کا سردار ہے، بڑا آدمی یا کوئی غیر متعلق نا واقف شخص ہے، وہاں اگر آدمی سختی سے کام لے گا تو یقیناً ایسی سختی فتنہ و فساد کا موجب ہوگی۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس دن کو نہایت محبت اخلاص اور تقوی کے ساتھ گزارنا چاہیئے۔اور کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس سے فساد ہو۔مثلاً میرے نزدیک یہ بھی ایک غلط طریق ہے جسے اختیار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ جلوس نکالا جائے۔جلوس تبلیغ کا حصہ نہیں۔اور اگر حصہ ہوتا تو رسول کریم ال تبلیغ کیلئے ضرور جلوس نکالتے۔مگر آپ نے کبھی جلوس نہیں نکالا۔جلوس اور اغراض کے ماتحت نکالے جاتے ہیں۔مثلاً اگر دشمن ہم سے لڑتا ہو دق کرتا ہو۔تو فوجی رنگ میں اس پر رُعب بٹھانے کیلئے ایک وقت جلوس بھی مفید ہو سکتا ہے۔بلکہ ایسے موقع جلوس کا نکالنا یا اپنی طاقت کے اظہار کیلئے کوئی طریق اختیار کرنا ثواب کا موجب ہو جاتا ہے۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ جب صلح حدیبیہ کے بعد عمرہ کیلئے تشریف لائے تو آپ نے ایک کو دیکھا۔کہ وہ اکڑ اکڑ کر چل رہا ہے۔آپ نے اس سے پوچھا تم اس طرح کیوں چلتے ہو۔اس نے کہا یا رسول اللہ راستہ میں ملیریا کا زور رہا۔ہم میں سے بہت سوں کو بخار نے آگھیرا۔خبر کافروں تک بھی پہنچ چکی ہے۔اگر ہم جھکے چلیں تو یہ خیال کریں گے کہ مسلمانوں میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں۔پس میں اکڑ کر چلتا ہوں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو و کہ ہم ان کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اس صحابی کی اس گفتگو کو پسند کیا اور فرمایا اللہ تعالی کو بھی یہ بات پسند آئی ہے تے۔تو بعض جگہ اکڑنا بھی مفید ہوتا ہے مگر ہر چیز کا موقع اور محل ہوتا ہے۔جب دشمن ہم پر رعب ڈالنا چاہیے، وہ گرانا اور ذلیل کرنا چاہے، اس وقت اگر ہم نڈر ہو کر چلتے ہیں، جلوس نکالتے اور اپنا رُعب قائم کرتے ہیں تو یہ جائز ہوگا۔مگر تبلیغ لڑائی کا وقت نہیں ہوتا یہ تو لجاجت، منتیں اور ترلے کرنے کا وقت ہوتا ہے۔بھلا سوچو تو اگر کسی سے جاکر کے کہ پیسہ دو۔ورنہ تمہارا سر پھوڑ دوں گا تو کیا اسے پیسہ مل جائے گا۔سوالی کو تو ترلے ہی زیب دیتے ہیں۔جب ہم تبلیغ کرتے ہیں تو لوگوں سے ایک دان ایک صدقہ ایک خیرات طلب کرتے ہیں۔ان کی سب سے زیادہ قیمتی چیز کی ان کے دل کی ان کے ایمان کی گو اس کے بدلہ میں ہم ایک نہایت قیمتی چیز انہیں دیتے بھی ہیں۔اور حقیقی صحابی شخص -