خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 20

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہوتا رکھتی ہو، اس میں جتنی جلدی عفو طلب کیا جائے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔اور وہ سزا کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ ناراضگی کے ساتھ وابستہ ہے۔چاہے ناراضگی کے ساتھ سزا ہو یا نہ ہو۔بسا اوقات انسان ناراض ہوتا ہے لیکن سزا نہیں دیتا۔اور جو حصہ ندامت پیدا کرنے ہے، اس میں اُسی وقت عفو کا حق ہوتا ہے جب ندامت پیدا ہو جائے۔اُس وقت کسی کا یہ کہنا میرا قصور تو کوئی نہیں لیکن مجھے معاف کردو۔در حقیقت اس حقیقت کا انکار ہے جس کیلئے سزا دی گئی تھی۔اور اس حالت میں معاف کر دینے کے معنے یہ ہیں کہ اس کو اسی مقام پر کھڑا رہنے دیا جائے جس پر وہ پہلے کھڑا تھا۔جب مجرم کا احساس ہی کسی کے دل میں پیدا نہیں ہوا اور جو غرض تھی یعنی یہ کہ اس سے ایک زیادہ سمجھنے والی ہستی اور ایک ذمہ دار ہستی محسوس کرتی ہے کہ اس نے غلطی کی، وہ اس پر ندامت کا اظہار کرے۔جب وہ غرض ہی پوری نہ ہوئی تو معافی طلب کرنے کے کیا معنی ناراضگی تو ایک روک ہوتی ہے جیسے ایک گھوڑے کے گلے میں اس لئے رسی ڈال دی جائے کہ وہ کسی اور طرف نہ جاسکے۔لیکن اگر وہ گھوڑا اسی طرف زبردستی چلا جائے جس طرف سے اسے روکا گیا ہو تو پھر اس روک کا کیا فائدہ۔اسی طرح اگر بغیر اصلاح ہونے کے معاف کردیا جائے تو ناراضگی کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اگر خیالات میں یا ذہن میں کچھ تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور ابھی تک کسی میں جرم کے سمجھنے کی قابلیت بھی پیدا نہیں ہوئی تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس کے دل میں حقیقی ندامت پیدا ہوئی ہے۔اُس نے تو ابھی تک اپنے مجرم کو بھی نہیں سمجھا کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کوئی خدا تعالٰی سے یہ کہے کہ اے خدا! تیرا رسول خَاتَمَ النَّبی ہے تو جھوٹا مگر یہ کہنے سے تو مجھ پر گرفت نہ کر تو کیا ایسا شخص راستی پر ہو گا۔بھلا اس سے زیادہ احمق اور کون ہو سکتا ہے جو ایک طرف تو جھوٹا کہتا ہے اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ مجھ پر گرفت نہ کیجیئو - یا کوئی یہ دعا کرے کہ اے خدا تیرا نبی ہے تو جھوٹا مگر تو کہتا ہے اس لئے مان لیتا ہوں۔ایک طرف جھوٹا کہنا اور دوسری طرف یہ کہنا کہ تو کہتا ہے اس لئے مان لیتا ہوں، ایک پاگل کی بڑ سے زیادہ اس کی حقیقت کیا ہوگی۔نبی کے بھیجنے کی غرض و غایت یہ ہوتی ہے کہ وہ معلم ہو۔اور جب کوئی اسے معلم سمجھتا ہی نہیں اور تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں کہ وہ کوئی تعلیم دے سکتا ہے تو اس سے وابستگی کیا معنی بھتی ہے۔