خطبات محمود (جلد 14) — Page 20
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء شخص یہ کہتا ہے کہ آہ غافل انسان اپنے اردگرد کی تمام چیزوں کو نہیں دیکھتا اور ان پر غور نہیں کرتا ، وہ خود اپنی جہالت کا اظہار کرتا ہے۔ کیونکہ کوئی انسان تمام کی تمام چیزوں کو دیکھ سکتا ہی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا بنا یا ہی نہیں کہ وہ ارد گرد کی تمام چیزوں پر غور کر سکے۔ پھر کیا طریق ہے جس سے اس کا پتہ لگتا ہے۔ اس کا پتہ الہام سے لگتا ہے جو ایک ساعت میں نازل ہوتا اور علوم کا دروازہ انسان کیلئے کھول دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لا تعداد صفات ہیں جن میں سے ایک صفت اس کی ربوبیت ہے۔ اس کی ربوبیت کے اربوں ارب حصوں میں سے ایک پانی اور روٹی ہے۔ پھر وہ صفار روہ صفات ہیں جو دوسری مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں یا وہ ؟ ہیں یا وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں یا وہ صفات ہیں۔ ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ۔ یا کئی ہیں جو اگلے جہاں سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً قرآن کریم میں ہی اشارہ کیا گیا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کی دوگنی صفات کام کریں گی۔ اور رسول کریم صلی الی تم نے فرمایا ہے کہ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ہے تو وہی صفات جو کل ہمارے سامنے آنے والی ہیں ، آج ہماری طاقتیں ایسی کمزور ہیں کہ ہم انہیں خیال میں بھی نہیں لا سکتے ۔ جب ہم ان کو بھی خیال میں نہیں لا سکتے جو کل ہمارے سامنے آنے والی ہیں تو دوسرے مخلوق سے جو صفات تعلق رکھتی ہیں یا جو خدا کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں ان کو خیال میں کیونکر لا سکتے ہیں۔ پس یہ بات نہیں کہ ہم غافل ہیں ۔ ہاں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غافل ہوں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں بعض لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے گزر جاتے ہیں مگر ان کی طرف توجہ نہیں کرتے لیکن وہ لوگ محدود دائرہ کے اندر ہیں ۔ اکثر حصہ لوگوں کا ایسا ہوتا ہے کہ اگر وہ ہر چیز کی حقیقت معلوم کرنا چاہیں تو بھی نہیں کر سکتے ۔ اور اگر کریں تو ایسے چکر میں پھنس جائیں گے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی ۔ غرض ان چیزوں کو انسانی علم دریافت نہیں کر سکتا، صرف اللہ تعالیٰ کا الہام ہی ہے جو ان کا علم دیتا ہے۔ انہی چیزوں میں سے صفات الہیہ ہیں۔ صفات الہیہ کا علم بھی الہام کے ذریعہ ملتا ہے ، عقل کے ذریعہ نہیں ۔ الہام جتنا جتنا پردہ اٹھاتا جاتا ہے اتنا اتنا علم ہوتا جاتا ہے۔ پس میں کہتا ہوں تم میں سے کئی عالم بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اللہ تعالیٰ کا رحم کس طرح نازل ہوتا ہے اور نہ کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اس امر کو سمجھتا ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ کا الہام بتا دیتا ہے۔ اور جن کو تجربہ ہو وہ جانتے ہیں کہ کس طرح بڑے بڑے وسیع مضامین جن کو سوچ کر نکالنا تو الگ رہا، جن کو سوچنا بھی کئی مہینوں کی محنت 18