خطبات محمود (جلد 14) — Page 21
خطبات محمود ۲۱ سال ۱۹۳۳ء پس یہ ایسی ہنسی کے قابل بات ہے کہ میں حیران ہو جاتا ہوں ہماری جماعت جسے صفات اللہ کا علم ہونا چاہیئے تھا اس کے بہت سے افراد اس علم سے بالکل کو رے ہیں۔کئی ہیں جو منہ سے تو دعوئی بیعت کرتے ہیں مگر حرام ہے کہ وہ کسی بات میں اطاعت کریں۔یہ تو ہوگا کہ مثلا میں چندہ مانگوں تو وہ کسی کے مقابلہ میں بڑھ کر چندہ دے دیں مگر ان کی ذہنی کیفیت نہیں بدلے گی۔اور یہی کہیں گے کہ جو وہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے۔ایسا انسان در حقیقت ہو سکتا رکہتا کو نہیں سمجھتا۔معلم اور متعلم میں فرق ہوتا ہے۔یوں تو بعض دفعہ شاگر بھی صحت ہے اور استاد غلطی پر۔مگر سمجھا یہی جاتا ہے اور عام قاعدہ یہی قرار دیا جاتا ہے کہ جو معلم کہ ہے وہی صحیح ہے۔اس نکتہ کو فرض کر کے آگے چلنا پڑتا ہے۔اور وہ شخص جو اس امر کو مد نظر نہیں رکھتا نقصان اٹھاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس قسم کی طبائع ہماری جماعت میں موجود ہیں۔وہ سمجھتی ہیں کہ جو بات وہ کہتی ہیں وہی ٹھیک ہے۔ایسے انسان کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔اگر یہاں ہوں تو قادیان کی رہائش سے اور اگر باہر ہوں تو میری بیعت سے۔اس لئے کہ جس دروازہ سے نور حاصل ہو سکتا ہے اس کو انہوں نے اپنے اوپر بند کر رکھا ہے۔اور جب دروازہ ا۔بند کیا ہوا ہو تو نور کہاں سے داخل ہو۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ایک واقعہ آتا ہے۔دیکھو وہ کس طرح سزا اور اس کی غرض کی اہمیت کو سمجھتی تھیں۔وہ اپنے بھانجے سے ایک دفعہ ناراض ہوئیں۔کیونکہ اس نے کہا تھا کہ حضرت عائشہ کا ہاتھ روکنا چاہیئے، وہ بہت صدقہ و خیرات کرتی ہیں۔اور اگر اسی طرح کرتی رہیں تو رشتہ داروں کیلئے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سُن کر قسم کھائی کہ میں اس کی شکل کبھی نہیں دیکھوں گی۔صحابہ " کو اس سے بہت تکلیف ہوئی اور انہوں نے صلح کی کوشش شروع کی مگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔آخر سب صحابہ نے مل کر یہ تجویز کی کہ صحابہ" کا ایک وفد حضرت عائشہ کے پاس جائے۔اور ان کے بھانجے کو بھی ساتھ لے لیا جائے اور لے جاکر خالہ سے بھانجے کی ملاقات کرادی جائے۔خالہ کی محبت بھی مادرانہ محبت کی طرح ہوتی ہے۔جب وہ اپنے بھانجے کو دیکھیں گی تو مادرانہ محبت ان پر غالب آجائے گی اور وہ اس کا قصور معاف کردیں گی۔یہ تجویز سوچ کر چند السابقون الاولون صحابہ حضرت عائشہ کے دروازہ پر پہنچے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔حضرت عائشہ نے اجازت دے دی۔اب چونکہ سب کو اکٹھی اجازت مل گئی تھی اور اس میں ان ريم