خطبات محمود (جلد 14) — Page 194
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سے۔ اپنے ہاتھ سے موت قبول کرنے میں کئی آسانیاں ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب تم اپنے ہاتھ سے ابتلاء لو تو تم اسے کم کر سکتے ہو۔ جیسے سردی میں وضو کیلئے پانی کی ٹھنڈک تم دور کر سکتے ہو۔ ایسے ہی جنگ میں تم بخوشی موت قبول کرتے ہو لیکن تم اس سے بچاؤ کیلئے تلوار ہاتھ میں پکڑ لیتے ہو اور بدن پر زرہ پہن لیتے ہوتا کہ جہاں تک ہو سکے موت کے اثر کو کم کر دو ۔ اگر تم زخمی ہو تو علاج کرا سکتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کی دی ہوئی موت سے تم کوئی بچاؤ نہیں کر سکتے ۔ خدا تعالیٰ کا قانون کام کرتا چلا جاتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس طرح تکلیف کم ہوگی یا زیادہ۔ مثلاً ہیضہ یا طاعون کی وبائیں بلا لحاظ مارتیں چلی جاتی ہیں۔ ہیں ۔ الغرض تم خود ایک چیز چیز کی تکلیف کم کم کر کرسکتے سکتے ہو۔ ہو۔ اسی اس لئے جب کا نٹا چبھ جائے تو تم اسے اپنے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کرتے ہو۔ کیونکہ دوسرے سے تمہیں یہ توقع نہیں ہو سکتی کہ وہ اس تکلیف کو کم کرنے کی ایسی ہی کوشش کرے گا جیسی تم خود کر سکتے ہو۔ پس اب قوم کی موت آتی ہے تو اس کا علاج زندہ رہنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ موت کو قبول کرے۔ دنیا میں تین قسم کی قو میں ہوتی ہیں۔ ایک تو وہ جو موت کو خود قبول کر لیتی ہیں۔ بعد میں انہیں ہمیشہ کیلئے زندگی مل جاتی ہے۔ جیسے رسول کریم ملی ایم کے ساتھی قُل لَّوْ كُنْتُمْ فِي بُيُؤْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلى مَضَاجِعِھم نے میں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں ان کا ذکر ہے جن کیلئے مقتول ہونا مقدر ہوتا ہے۔ حالانکہ یہاں یہ مطلب نہیں یہاں قتل کا لفظ موت کے معنی میں ہے۔ چونکہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ کی موت کی طرف اشارہ کرنا منظور تھا۔ اس لئے قتال نہیں کہا بلکہ قتل کہا ہے گویا یہ قتال بھی قتل ہی ہے۔ صحابہ کے سامنے موت پیش ہوئی۔ انہوں نے اسے قبول کر لیا نتیجہ میں انہیں ہمیشہ کی زندگی مل گئی۔ جنگ بدر کے موقع پر تمام صحابہ حضور کے ساتھ نہیں گئے تھے کیونکہ رسول کریم صلی السلام نے کسی مصلحت کی وجہ سے انہیں جنگ کی خبر نہیں دی تھی گو آپ کو اس کا علم تھا۔ آپ نے صحابہؓ سے دریافت فرمایا۔ مجھے مشورہ دو کہ لڑنا چاہئے یا نہیں ۔ مہاجرین نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ ! آپ نے دوبارہ فرما یا مشورہ دو ہمیں لڑنا چاہئے یا نہیں؟ مہاجرین نے پھر عرض کیا۔ ضرور یا رسول اللہ ! پھر آپ نے فرمایا۔ تم مشورہ کیوں نہیں دیتے۔ اس پر ایک انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! آپ کی مراد ہم سے ہے۔ انصار سے معاہدہ تھا کہ مدینہ کے اندر وہ آنحضرت صلی السلام کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ 192