خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 193

خطبات محمود ۱۹۳ سال ۱۹۳۳ء۔کریں گے ، مدینہ سے باہر وہ حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔اس وجہ سے رسول کریم انہیں سے مشورہ لینا چاہتے تھے۔اس انصاری نے آپ کے مطلب کو سمجھ لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ بے شک ہمارا یہ معاہدہ تھا کہ مدینہ سے باہر ہم نہیں لڑیں گے۔لیکن وہ تو ابتدائی زمانہ تھا اب خدا کا نور ہم نے خود اُترتے دیکھ لیا ہے۔اب یہ لیا ہے۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ آپ میدان جنگ میں جائیں اور ہم نہ جائیں۔ہم ان انصار کی طرف سے بھی جو علم نہ ہونے کی وجہ سے مدینہ میں رہ گئے ہیں، حضور کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر وہ بھی یہاں موجود ہوتے تو ضرور آپ کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتے۔یا رسول اللہ ! آپ ہم کو حکم دیجئے کہ سمندر میں گھوڑے ڈال دو۔پھر دیکھئے ہم ڈالتے ہیں یا نہیں۔یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور آگے بھی اور پیچھے بھی اور کوئی شخص آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے ہے۔یہ فقرہ صحابہ کو اس قدر پسند تھا کہ ایک صحابی نے جو ۱۴ یا ۱۸ جنگوں میں شریک ہوئے تھے کہا کرتے تھے کہ باوجود اس کے کہ مجھے اتنی جنگوں میں شمولیت کا فخر حاصل ہے، میرے نزدیک صحابی کا وہ فقرہ میری ساری لڑائیوں سے بہتر تھا، کاش کہ وہ میرے منہ سے نکلتا ہے۔غرض ایک تو یہ قوم تھی جنہوں نے بخوشی موت کو قبول کیا اور اس کے مطابق اس سے سلوک ہوا۔دوسری قوم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان سے زندگی کا وعدہ کیا تھا۔اس نے وعدہ کے لفظا ایفاء کا مطالبہ کیا کہ تم بادشاہت دو ہم لے لیں گے۔وہ مولوی ثناء اللہ صاحب والی سیرت کے لوگ تھے۔جیسے مولوی صاحب الفاظ الہام کو دیکھتے ہیں۔وہ بھی الفاظ الہام کو دیکھتے تھے۔انہوں نے کہا۔تم ہم کو زندگی دینے کے وعدے پر لائے تھے۔تم نے ہمیں بادشاہت دینے کا وعدہ کیا تھا، تم ملک لے کر ہمیں دو ہم لڑ کر ملک لینے کو تیار نہیں۔اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو سمجھ لو کہ تم جھوٹے ہو اور تمہارا الہام جھوٹا ہے۔خدا نے اُنہیں موت دے دی۔مگر چونکہ زندگی کا وعدہ بھی کیا ہوا تھا اس لئے زندگی بھی دے دے۔لیکن چالیس سال کے بعد جبکہ وہ نسل جس نے خود موت لینے سے انکار کر دیا تھا، بیابانوں میں تباہ ہو چکی تھی۔خدا تعالیٰ نے إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ کہنے والوں کے بچوں کو جنہوں نے یہ فقرہ نہیں کہا تھا اُٹھایا اور زندگی کا وعدہ ان کے زمانہ میں پورا کر دیا (ثُمَّ احْيَاهُمْ) 2 - تیسری قسم کی قوم وہ ہے جس سے کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔یہ قوم جب موت کے منہ میں آتی ہے تو اس