خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 185

خطبات محمود تمدنی ترقی اور اُس کی حفاظت کا طریق (فرموده ۱۸۔ اگست ۱۹۳۳ء بمقام پالم پور ) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ پچھلے خطبات میں میں نے بتایا تھا کہ کس طرح سورۃ فاتحہ میں انسانی تمدن کی ترقی کیلئے اللہ تعالیٰ نے گر بتائے ہیں ۔ ان میں سے ایک گرملِكِ يَوْمِ الدین لے میں بتایا گیا ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ انسانی ترقی اور لوگوں کی زندگی آرام سے بسر ہونے کا انحصار علاوہ گزشتہ خطبات میں بیان کردہ امور کے رحیمیت پر بھی ہے۔ جب تک انسان یہ عادت نہ ڈالے کہ وہ خوبی کی قدر کرے ، اُس وقت تک سوسائٹی اور اس کے قیام کیلئے مفید نہیں ہو سکتا ۔ اچھی بات کو دیکھنا تمدنی ترقی اور اس کی حفاظت کیلئے ضروری ہے۔ لیکن جس طرح اچھی باتوں کا دیکھنا تمدن کے قیام کیلئے ضروری ہے، اسی طرح اس کیلئے بعض اور با تیں ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ملِكِ يَوْمِ الدین کے الفاظ میں بیان کی ہیں - مُلِكِ يَوْمِ الدین میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ ہر کام کا خدا تعالیٰ نے انجام مقرر کیا ہے کوئی کام خواہ اچھا ہو یا برا، نتیجہ پیدا کرنے سے خالی نہیں ۔ خفیف سے خفیف کام بھی نتیجہ پیدا کئے بغیر نہیں رہتا۔ اس زمانہ میں وائرلیس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کس طرح خفیف حرکات کا غیر محدود اثر پیدا ہوتا ہے۔ ہزاروں میل پر ایک شخص بولتا ہے۔ اُس کی آواز ہوا میں ایک تغیر پیدا کر دیتی ہے۔ ہوا کا وہ اثر ہزار ہا میل پر ایک آلہ کے ذریعے بند کر لیا جاتا ہے اور اسی صورت میں ہم اسے دوسری جگہ سن لیتے ہیں۔ غرض وائرلیس نے ثابت کر دیا ہے کہ خفیف سے خفیف 183