خطبات محمود (جلد 14) — Page 185
خطبات محمود ۱۸۵ سال ۱۹۳۳ء لیتیں۔وہ دیکھتی ہیں کہ فلاں شعبہ میں کام کیا جاتا ہے لیکن نتائج پر غور نہیں کرتیں۔وہ ایک مقام پر کھڑی ہو کر ترقی روک دیتی ہیں جو ہمیشہ نتائج نہ دیکھنے سے رُکتی ہے۔ایسے حالات میں لازماً قوم سوجاتی ہے اور سوتے سوتے مرجاتی ہے۔غرض ہر کام کا نتیجہ دیکھنا چاہیے صرف کام دیکھنا کافی نہیں۔اگر نتائج توقع کے مطابق نہیں تو غور کریں کہ نتیجہ کا وقت ہے یا نہیں۔اگر ابھی نتیجہ دیکھنے کا وقت نہیں تو کام لمبا کریں۔پھر دیکھیں کہ نتائج کیا نکلتے ہیں۔لیکن اگر نتیجہ کا وقت آگیا ہے اور نتیجہ توقع کے مطابق نہیں تو یا کام کرنے والوں میں نقص ہوگا یا اس کام کی تجویز ہی ناقص ہوگی۔اگر کام کرنے والوں میں نقص ہو تو آدمی بدل دینے چاہئیں اور اگر سکیم ناقص ہو تو اسے بدلنے کا فکر کرنا چاہیے۔اگر پھر بھی نتائج اچھے نہ نکلیں تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جس چیز کے مقابلہ کی کوشش کر رہے ہیں وہ زیادہ طاقتور ہے۔اس کے مقابلہ کیلئے اس سے زیادہ قوت کی ضرورت ہوگی۔مثلاً اگر ہم ایک پہاڑ اکھاڑنا چاہیں تو اُس کیلئے ویسی ہی سختی سے مقابلہ کی ضرورت ہوگی۔انسانی تمدن کی ترقی کیلئے دوسرا یہ امر ضروری ہے کہ اعمال کے نتائج کے جائزہ کے وقت سلوک مالکانہ ہو۔اگر سزا سے کام بنے تو سزا دینا چاہیے اور اگر معاف کرنا بہتر ہو تو معاف کر دینا چاہیئے۔بعض لوگ اپنی طبیعت کا لحاظ رکھتے ہیں۔اگر طبیعت میں اُس وقت غصہ ہوا تو نقص پر سزا دے دی۔اور اگر طبیعت اس وقت نرمی کی طرف مائل ہوئی تو اسی نوعیت کے کام پر معاف کردیا۔یہ عفو نہیں اور نہ یہ سزا ہے یہ تو نفس پرستی ہے۔اگر عفو اسی کا نام ہے تو دنیا میں ایسا کوئی شخص بھی نہ ہوگا۔جو عفو نہ کرے۔چنانچہ جابر بادشاہ بھی اپنے دوستوں کو اکثر معاف کر دیتے ہیں۔ظالم شخص بھی بعض اوقات اس طرح کے عفو سے کام لے لیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ اسلام ہے، نے ایسے عفو کی تعلیم دی ہے ، غلط کہتا ہے۔اسلام نے ہرگز یہ تعلیم نہیں دی۔اسلام نے جو تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ موقع اور محل کے مناسب کام کرنا چاہیئے۔اگر تم غصہ کی حالت میں ہو اور اُس وقت عفو مناسب ہے تو اسلام کہتا ہے کہ عفو کرو۔اگر تمہاری طبیعت نرمی کی طرف مائل ہے لیکن اس وقت سزا دینا مناسب ہے تو اُس وقت سزا دو۔گویا ہمیشہ نتائج مد نظر رکھو اپنے دل کی حالت کو نہ دیکھو۔مالک کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنی حالت دیکھے بلکہ اسے تو یہ امر مد نظر رکھنا چاہیئے کہ نتائج کیا ہوں گے۔خدا موقع اور نتائج کو مد نظر رکھتا ہے، وہ کام کو نہیں دیکھتا۔ان دو امور کے بغیر نہ کوئی فرد نہ کوئی خاندان شخص جو