خطبات محمود (جلد 14) — Page 14
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء قیمتی مال کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ نامکمل دیواروں والے مکان میں اپنے قیمتی مال کو رکھ کر بے فکر سو جانے والے سے زیادہ بیوقوف کوئی نہیں ہو سکتا۔ ایسے شخص کی مثال جو نماز پڑھتا ہے اور روزہ نہیں رکھتا، ان تینوں بیوقوفوں کی سی ہوگی جو کہ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ کوئی پیچھے سے آیا اور اس نے کہا ۔ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ۔ ایک نے کہا وَ عَلَيْكُمُ السّلام دوسرے نے کہا تجھے پتہ نہیں نماز میں نہیں بولا کرتے۔ تیسرا بولا تو کتنا بیوقوف ہے خود بولتا ہے اور اسے منع کرتا ہے۔ امام صاحب بھی عقل میں ان سے کم نہ تھے ۔ کہنے لگے الْحَمْدُ لِله ہم نہیں بولے ۔ اس طرح ان سب نے ایک دروازہ کھول کر نماز کو باطل کرلیا۔ تو یاد رکھو ہر چیز کی حدود ہوتی ہیں ۔ انہیں اگر چھوڑ دو تو وہ چیز ہی باقی نہیں رہے گی بلکہ اور دروازے کھلتے جائیں گے۔ پس ایسے لوگ جن میں طاقت تھی مگر انہوں نے روزے نہیں رکھے، انہوں نے گناہ کیا ، مجھ سے بھی کسی نے مسئلہ دریافت کیا تھا کہ روزہ سے ضعف ہو جاتا ہے کیا ایسی حالت میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے؟ میں نے جواب دیا۔ روزہ ہے ہی اسی لئے ۔ شریعت اسے تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے جو ضعیف ہو چکا۔ مگر اسے اجازت نہیں دیتی جسے روزہ کے نتیجہ میں ضعف ہوتا ہے۔ کون ہے جو روزہ رکھنے سے یہ سمجھے کہ گھوڑا خوید ۳ میں ڈالا جا رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ موٹا ہو جائے گا۔ روزہ سے کمزور ہو جانے کا عذر بیہودہ ۔ ہ ہے ہاں شریعت نے چھوٹی عمر کے بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ بلوغت کے قریب کچھ مشق ضرور کرانی چاہئے ۔ مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے پہلا روزہ رکھنے کی اجازت بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں دی تھی۔ لیکن بعض بیوقوف چھ سات سال کے بچوں سے روزے رکھواتے ہیں اور سمجھتے ہیں اس کا ثواب ہمیں ہوگا۔ یہ ثواب کا کام نہیں بلکہ ظلم ہے کیونکہ یہ عمر نشو ونما کی ہوتی ہے۔ ہاں ایک عمر وہ ہوتی ہے کہ بلوغت کے دن قریب ہوتے ہیں اور روزہ فرض ہونے والا ہی ہوتا ہے۔ اُس وقت کچھ مشق کرانی چاہئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت اور سنت کو اگر دیکھا جائے تو بارہ تیرہ سال کے قریب کچھ کچھ مشق شروع کرانی چاہئے ۔ مگر سارے روزے رکھوانے نہیں چاہئیں حتی کہ اٹھارہ سال کی عمر ہو جائے جو میرے نزدیک روزہ کیلئے بلوغت کی عمر ہے۔ مجھے پہلے سال صرف ایک روزہ رکھنے کی اجازت حضرت 12