خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 164

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ارد گرد اُپلے وغیرہ لوگوں نے رکھے ہوئے ہیں ۔ جس سے میں یہ سمجھا کہ گویا لوگ آپ کو جلانا چاہتے ہیں۔ میں گھبرا کر اس میں روک بنا چاہتا ہوں مگر لوگ مجھے آگے آنے نہیں دیتے ۔ اتنے میں میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے جلدی جلدی دیا سلائی جلانی شروع کی اور کوشش کی کہ آگ لگا دیں مگر آگ لگی نہیں۔ میں اسی گھبراہٹ میں ہوں کہ میری نظر دروازے کے اوپر کے حصہ پر پڑی۔ میں نے دیکھا کہ وہاں موٹے حروف میں لکھا ہوا ہے۔ ”ہمارے پیارے بندوں کو کوئی نہیں جلا سکتا ۔“، غرض اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ جب کسی کے دل میں ہو تو کوئی آگ اسے نہیں جلا سکتی۔ ممکن ہے کہ کبھی بشری کمزوریوں کی وجہ سے کبھی صحت کی خرابی کی وجہ سے ، کبھی بد صحبت اور کبھی تعلیمی غلطیوں کی وجہ سے وہ گناہوں میں مبتلا ہو جائے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ اس کے دل میں ہوگی تو وہ اسے ان تمام گناہوں سے ایک نہ ایک دن نکال کر لے آئے گی بشر طیکہ حقیقی محبت ہو، بناوٹی اور سطحی نہ ہو۔ دل میں ایک سوز ہو، ایسا سوز جو ہر روز اور ہر دن اس کے دل میں زیادہ سے زیادہ جلن پیدا کرتا رہے۔ یہی وہ سوز ہے جس کے پیدا کرنے کیلئے انبیاء علیہم السلام آئے۔ اسی سوز کے پیدا کرنے کیلئے دین آئے ۔ یہی وہ سوز ہے جس کیلئے روزے رکھے جاتے ہیں۔ نمازیں پڑھیں جاتیں اور حج کیا جاتا ہے۔ حج کیا ہے؟ ماں کی محبت کا ایک نظارہ ہے جس کی یاد تازہ کرائی جاتی ہے۔ صفا اور مروہ پر بڑے بڑے مہذب آدمی جو بیٹھنے سے اٹھنے پر ہی کئی منٹ لگا دیتے ہیں جو وقار سے چلتے اور تیز چلنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیسے چھچھورے ہیں۔ ایسے مہذب لوگ بھی ایک بے سلا کپڑا کفن کی طرح لپیٹ لیتے اور صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک دوڑے چلے جاتے ہیں۔ وہاں بازار لگا ہوا ہوتا ہے۔ اونٹ، گدھے اور گھوڑے گزر رہے ہوتے ہیں۔ مگر وہ معزز جو اپنے وقار کے ماتحت لوگوں کو اس وجہ سے حقارت سے دیکھتے ہیں کہ وہ کیوں جلدی جلدی چلتے ہیں اس جگہ جب دوستونوں کے پاس پہنچتے ہیں تو دوڑ پڑتے ہیں محض اس لئے کہ حضرت ہاجرہ حضرت اسماعیل کو دیکھنے کیلئے وہاں دوڑی تھیں ۔ حضرت ابراہیم کا لایا ہوا پانی ختم ہو گیا۔ جب حضرت اسماعیل پیاس کے مارے تڑپنے لگے۔ جب ماں سے ان کی یہ تکلیف دیکھی نہ گئی تو گھبرا کر حضرت ہاجرہ قریب کی پہاڑی صفا پر اس خیال سے چڑھ گئیں کہ ممکن ہے انہیں پانی کا کوئی سراغ مل جائے یا کوئی قافلہ دکھائی دے جس سے وہ پانی لے سکیں۔ مگر جب کہیں پانی کا پتہ نہ چلا تو وہ اُتریں اور پاس ہی پچاس گز کے قریب ایک اور ٹیلہ تھا، 162