خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 159

سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود ۱۵۹ ہو جاتا ہے ہے۔وہ جنت کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا، صرف اس میں داخل ہونے کی دیر تھی مگر مرتد ہو جاتا ہے۔اور مرتد بھی کتنا خطرناک۔بعض انسان کمزوری اعمال کی بناء پر مرتد ہوتے ہیں اور بعض اس لئے مرتد ہوتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے جو قدر ان کی کی جانی چاہیے تھی، وہ نہیں ہوئی۔مگر وہ اس لئے مرتد ہوتا ہے کہ نَعُوذُ بِالله رسول کریم ال دھو کے باز ہیں اور اپنے پاس سے وحی بناتے ہیں۔گویا ٹھو کر بھی لگی تو انتہائی۔کئی ٹھوکریں ایسی ہوتی ہیں جو درمیانی درجوں پر لگتی ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ڈاکٹر عبدالحکیم کو ٹھوکر لگی۔مگر وہ مرتد ہو کر جہاں یہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب (نَعُوذُ بِاللَّهِ) بڑے دھوکے باز ہیں، فریبی اور مکار ہیں۔وہاں یہ بھی کہا کرتا تھا کہ آپ کا اللہ تعالٰی سے تعلق بھی Cear ہے گویا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مفتری قرار نہیں دیتا تھا۔مگر معمولی سی بات پر یکدم یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ نَعُوذُ بالله رسول کریم اپنے پاس سے باتیں بنالیتے ہیں۔اس کے مقابل میں ہم ایک اور شخص کو دیکھتے ہیں۔رسول کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہو کر نعمائے جنت کا ذکر فرماتے ہیں۔اور اس ذکر میں خداتعالی جو آپ پر فضل نازل کرنے والا تھا، ان کو بھی بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اللہ تعالی جنت میں انبیاء پر کیا کیا احسان کرے گا۔وہ شخص بے تاب ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اس کے کوئی خاص اعمال نہیں کوئی نمایاں قربانیاں نہیں، مگر وہ کہتا ہے کہ یا رسول اللہ ! دعا کیجئے میں بھی ان نعمتوں میں شریک ہو جاؤں۔کتنا چھوٹا سا یہ عمل ہے کہ ایک وقتی خواہش سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔اور یہ ایسی خواہش ہے جو نعمائے جنت کا ذکر سن کر ہر شخص کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے اور ہر شخص کو لالچ آجاتا ہے۔مگر خدا تعالی کو اس کا یہ بے ساختہ پن پسند آجاتا ہے اور جب وہ کھڑا ہو کر کہتا ہے یا رسول اللہ ! دعا کیجئے میں بھی ان نعمتوں میں شریک ہو جاؤں تو رسول کریم فرماتے ہیں ہاں تم بھی ان میں شریک ہو گے۔تب اور لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور کہنا شروع کرتے ہیں یا رسول اللہ ! دعا کیجئے ہم بھی شریک ہو جائیں۔مگر آپ فرماتے ہیں پہلے کہنے والے کو یہ حق مل چکا، نقل کرنے والوں کیلئے اب موقع نہیں ہے۔ان بعد میں بولنے والوں میں سے کئی وہ لوگ ہوں گے، جنہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہوں گی اور پہلے شخص زیادہ کی ہوں گی مگر اس شخص کی بے ساختگی خدا تعالی کو پسند آگئی۔وہ عمل جس میں اسے کوئی قربانی کرنی نہیں پڑی جس میں اسے کوئی تکلیف اٹھانی نہیں پڑی جس میں اسے کسی جہاد