خطبات محمود (جلد 14) — Page 158
خطبات محمود ۱۵۸ سال ۱۹۳۳ء سے وہ کی طرح جسے چاہتا ہے دوزخ میں ڈال دیتا ہے۔اور جسے چاہتا ہے جنت میں ڈال دیتا ہے ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان جب تک کہ اس کا آخری سانس جاری ہے، ایسے خطرات میں مبتلا ہوتا ہے کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اسے کہیں کا کہیں پھینک دیتی ہے۔یہی بات رسول کریم ﷺ نے بتائی اور سمجھایا کہ انسانی اعمال اور اس کا قلب ایسے خطرات میں گھرا ہوا ہے۔اور اس قسم کی مشکلات اس کے سامنے ہیں کہ بعض دفعہ ذرا سی بے احتیاطی۔اپنی تمام عمر کی کارروائیوں کو باطل کر دیتا ہے۔پس اگر یہ زندگی جس کی مثال رسول کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی کہ ایک انسان دوزخ کے کنارے کھڑا ہوتا ہے مگر جنت میں چلا جاتا ہے اور دوسرا جنت کے کنارے کھڑا ہوتا ہے مگر دوزخ میں چلا جاتا ہے۔جسر صراط نہیں تو اور کون سی چیز جسر صراط کہلانے کی مستحق ہے۔یہی وہ چیز ہے جو تلوار سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز دھار رکھتی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں یہ بڑی وسیع زندگی ہے۔لوگ خیال کرتے ہیں اس کے دائرے بڑے وسیع ہیں حالانکہ حقیقت میں ایک ایک قدم میں جو انسان اٹھاتا ہے ہزاروں خطرات پنہاں ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک ایک حرکت کے نیچے ہزاروں برکتیں بھی مخفی ہوتی ہیں۔کتنا عظیم الشان فرق ہے جو ہم انسانی زندگی رم میں دیکھتے ہیں۔رسول کریم ایک شخص سے کو وحی لکھاتے ہیں، وہ آپ کا مقرب سمجھا جاتا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ اُس وقت بہت سے صحابہ اِس وجہ سے اس پر رشک کرتے ہوں کہ اسے رسول کریم ﷺ کے قریب بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور اُسے تازہ وحی سننے اور لکھنے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔مگر ایک دن قرآن مجید لکھتے لکھتے جبکہ رسول کریم ال اسے تازہ وحی لکھا رہے تھے یکدم اس کی زبان پر وہی وہی جاری ہو جاتی ہے جو رسول کریم اسے لکھانا چاہتے ہیں۔قرآن مجید کی عبارت کا زور اُس کی فصاحت اس کی طبعی ترکیب ایک حد تک پہنچ کر بے اختیار اس کی زبان پر یہ وحی جاری کردیتی ہے۔فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ہے۔اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ہاں لکھو۔یہی وحی ہے۔تو وہ بجائے اس کے کہ سجدے میں گر جاتا اور کہتا کہ اللہ تعالٰی نے مجھ پر کتنا فضل نازل کیا کہ اس کے کلام کا میرے دل پر بھی پر تو پڑ گیا۔وہ خیال کرتا ہے کہ یہ قرآن انسانی کلام ہے، خدا کا نہیں۔میں نے ایک فقرہ کہا وہی جب پسند آگیا تو اسے قرآن مجید میں لکھوا دیا۔اس خیال کے ماتحت وہ مرتد