خطبات محمود (جلد 14) — Page 157
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کا اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں فدا کر کے راستہ میں فدا کر دینا پیٹھ پھیرنے والوں کیلئے ذلت کا داغ ہوگا۔ بہر بہت ہیں جو پیچھے آتے ہیں مگر اپنے اخلاص کی وجہ سے آگے نکل جاتے ہیں جیسے صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ پیچھے آئے مگر آگے نکل گئے ۔ اگر کمزور لوگ جماعت سے خارج ہو کر اپنی جگہیں خالی کر دیں گے تو میں سمجھتا ہوں یہ یقینا جماعت کی کمزوری کا باعث نہیں ہوں گے بلکہ اُن لوگوں کو آگے لانے کا باعث ہوں گے جو ابھی جماعت میں داخل نہیں ہوئے ۔ اگر کمزور ایمان والے غداری کریں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے ہی وہ جماعت سے نکلیں گے خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئے گی اور اُن لوگوں کو آگے لے آئے گی جو ابھی پیچھے ہیں اور اس طرح یہ کمی اور خلا پورا کر دیا جائے گا۔ پس میں یہاں کے دوستوں کو اور باہر کی جماعتوں کو بھی اس خطبہ کے ذریعہ آگاہ کر دیتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تا ایسا نہ ہو کہ وہ بعد میں کہہ دیں ہمیں علم نہیں تھا اور ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سال کے آخر میں حساب لیا جائے گا۔ سال کے بعد کا حساب کوئی فائدہ نہیں دے سکتا کیونکہ نہ تو وہ انہیں بچا سکتا ہے جنہیں سزا ملنی ہے اور نہ ہی سلسلہ کو کوئی فائدہ دے سکتا ہے۔ محاسبہ ساتھ کے ساتھ ہوگا مگر انتہائی سز ا سال کے آخر میں دی جائے گی ۔ در حقیقت اخلاص کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مجھے اس قسم کے خطبہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ کیونکہ ہر مومن ایک عمود اور ستون ہوتا ہے جس پر دنیا قائم ہوتی ہے۔ اُسے کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ کھڑا ہمیشہ اسے کیا جاتا ہے جس کی جڑ نہ ہو۔ پس میرا یہ خطبہ گو مخلصین کی ایک رنگ میں ہتک ہے کیونکہ وہ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کے فضل سے پائے ثبات بخشا گیا۔ اور انہیں توفیق دی گئی ہے کہ وہ باقیوں کیلئے عمود اور ستون بنیں ۔ دراصل میرے مخاطب وہ نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو مخلصین کے نام پر بٹہ لگانے والے ہیں اور جن کی مثال پیش کر کے مخالف لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ایسے لوگ بھی جماعت میں پائے جاتے ہیں ۔ ورنہ ہر مالی تحریک کے موقع پر میں نے دیکھا ہے نادہندہ خاموشی سے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور مخلصین جو پہلے ہی بوجھ سے دبے ہوئے ہوتے ہیں، آگے نکل آتے ہیں اور کہتے ہیں آئندہ ۱/۸ کی بجائے ہم ے / ادیں گے یاے /ا کی کی بجائے ۶ / دیں گے یا ۶ / ۱ کی بجائے ۵ / ۱ دیں گے۔ تب میں سوچتا ہوں کہ دیکھو جن کے متعلق میں چاہتا 155