خطبات محمود (جلد 14) — Page 10
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء الہی تصرف اور خدائی سامان جن کے سامنے انسانی تدابیر باطل ہو جاتی ہیں، ان کے نتیجہ میں ہوتا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالکل آزادی کے ساتھ عدالت میں پہنچتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آپ کو نہایت اعزاز سے کرسی پر بٹھاتا ہے۔ یہ دیکھ کر دشمن حیران ہو جاتا ہے کہ جاری تو وارنٹ ہوئے تھے مگر یہ آزادانہ طور پر یہاں کس طرح پہنچ گئے ۔ مگر ان کو کیا معلوم کہ الہی تصرف نے وارنٹ کے ساتھ کیا کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے وارنٹ تو جاری کر دیا لیکن اس کی تعمیل میں التواء ہو گیا۔ وارنٹ کہیں کاغذوں کے نیچے دب گیا۔ تیسرے دن اسے خیال آیا میں نے جو وارنٹ جاری کیا ہے مجھے اس کے جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ وہ فورا گورداسپور تار دیتا ہے کہ کے کی میں نے جو مرزا صاحب کے متعلق وارنٹ جاری کیا ہے اس کی تعمیل نہ کی جائے۔ گورداسپور کی عدالت والے حیران ہوتے ہیں کہ ایسا وارنٹ تو کوئی آیا نہیں۔ وہ لکھتے ہیں ایسا وارنٹ ہمیں نہیں ملا۔ آخر وارنٹ جاری کرنے والے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے کاغذات میں ہی پڑا رہتا ہے اور اُسے بھیجنے کی بھی توفیق نہیں ملتی۔ گورداسپور کا ڈپٹی کمشنر جو اب تک زندہ ہے، ڈگلس اس کا نام تھا۔ وہ سخت متعصب عیسائی تھا اس کے تعصب کی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ آیا تو اس نے آتے ہی کہا کہ میں سنتا ہوں یہاں ایک شخص مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کیا ابھی تک اس کو سز انہیں ملی ۔ یہ حالات تھے مگر مقدمہ کے دوران میں اس کے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ جاتی ہے کہ مرزا صاحب پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بیان کیا۔ میں نے دیکھا بٹالہ کے سٹیشن پر ڈگلس صاحب گھبرائے ہوئے پھر رہے ہیں کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی اُدھر ۔ میں نے ان کیلئے کرسی بچھائی مگر وہ نہ بیٹھے۔ میں نے کہا آپ بیٹھ جائیں ۔ وہ کہنے لگے میری طبیعت خراب ہے اتنا کہ کر پھر ان پر گھبراہٹ غالب آگئی اور وہ مضطر بانہ حالت میں ٹہلنے لگ گئے ۔ میں نے کہا صاحب ! آخر بات کیا ہے انہوں نے کہا میں حیران ہوں کہ کیا کروں؟ ایک طرف مجھ پر زور دیا جا رہا ہے کہ مرزا صاحب پہلی دفعہ قابو آئے ہیں ، انہیں اچھی طرح سزا دی جائے ۔ دوسری طرف میری یہ حالت ہے کہ میں جدھر جاتا ہوں مرزا صاحب کی صورت میرے سامنے آجاتی ہے۔ اور وہ یہ کہتی مجھے نظر آتی ہے کہ الزام بالکل جھوٹا ہے۔ اتنا کہہ کر ڈگلس صاحب بیٹھ گئے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے مجھے بتایا میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں، یہ شخص سچا ہے۔ اور جو مقدمہ کھڑا کیا گیا ہے محض جھوٹا اور بناوٹی ہے۔ وہ پوچھنے لگے پھر اس کیلئے کیا 8